پشاور (کیو این این ورلڈ) خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے وادی تیراہ میں جاری فوجی آپریشن کی سخت مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ آفریدی قوم کو کمیٹی ممبران کی مرضی کے بغیر برفباری کے موسم میں اپنے گھر بار خالی کرنے پر مجبور کیا گیا۔

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے بیان میں کہا کہ وادی تیراہ پر آج ایک بار پھر سخت ترین حالات مسلط کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کی منتخب جمہوری حکومت کو رجیم چینج آپریشن کے ذریعے ہٹایا گیا، اور بعد میں جب دہشت گرد دوبارہ آباد ہو رہے تھے تو خیبر، ہزارہ، ملاکنڈ، ڈی آئی خان اور وزیرستان میں جرگے اور امن پاسون منعقد کیے گئے۔

وزیراعلیٰ نے خبردار کیا کہ پختون قوم کے سروں کا سودا ہو رہا ہے اور دہشت گردی دوبارہ مسلط کی جا رہی ہے، جس پر عوام نے بڑی تعداد میں باہر نکل کر بند کمروں کے فیصلوں کو مسترد کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جن اضلاع میں عوام نے ان فیصلوں کو رد کیا وہاں آج بھی امن قائم ہے، لیکن جن اضلاع نے خطرے کو سنجیدگی سے نہیں لیا وہاں بدامنی دوبارہ نمودار ہوئی، اور بند کمروں کے فیصلوں نے نہ صرف حکومت کو گرایا بلکہ معیشت کو بھی نقصان پہنچایا۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ وادی تیراہ میں بھی بند کمروں کے فیصلے مسلط کیے گئے، جبکہ انہوں نے بار بار انتباہ کیا کہ آپریشن کے نتائج فائدہ مند نہیں ہوں گے۔ انہوں نے بتایا کہ خیبر پختونخوا اسمبلی کے جرگے نے 15نکاتی ایجنڈے میں متفقہ طور پر کہا کہ ملٹری آپریشن مسئلے کا حل نہیں اور دہشت گردی ختم نہیں ہو رہی، بلکہ سب مل کر مسئلے کا پرامن حل تلاش کیا جائے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ کور کمانڈر اور آئی جی ایف سی کی سربراہی میں 24 رکنی کمیٹی نے آفریدی قوم کے بڑوں سے کہا کہ گھر خالی کریں کیونکہ ان گھروں سے دہشت گرد حملے کرتے ہیں۔ آفریدی قوم نے اس فیصلے سے اتفاق نہیں کیا لیکن برفباری کے موسم میں انہیں مجبور کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اس علاقے میں برفباری اتنی شدید ہے کہ جانور بھی زندہ نہیں رہ سکتے، اور اب بزرگ، بچے اور خواتین نقل مکانی کر رہے ہیں جبکہ آپریشن بھی برف کی وجہ سے مؤثر طریقے سے نہیں ہو پا رہا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے