خواجہ آصف، پیزاگیٹ، مذاق سے بڑھ کر ایک آئینہ
تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفےٰ بڈانی
سیالکوٹ کینٹ کا وہ دن، جو ایک خوشگوار تقریب کے طور پر شروع ہوا، جلد ہی ایک قومی سطح کی شرمندگی میں تبدیل ہو گیا۔ شہر کی مصروف سڑکوں پر ایک نئے ریسٹورنٹ کی افتتاحی تقریب منعقد ہو رہی تھی۔ ریڈ کارپٹ بچھا ہوا تھا، پھولوں کی خوبصورت سجاوٹ کی گئی تھی اور کیمرے ہر لمحے کو کیپچر کر رہے تھے۔ لوگوں کو بتایا جا رہا تھا کہ یہ پیزا ہٹ کا نیا، آفیشل آؤٹ لیٹ ہے—ایک بین الاقوامی برانڈ جو پاکستان میں اپنی توسیع کر رہا ہے۔ اس تقریب کی شان بڑھانے کے لیے پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ محمد آصف خود تشریف لائے۔ مسکراتے ہوئے انہوں نے ربن کاٹا، تصاویر بنوائیں اور افتتاح مکمل کیا۔ سب کچھ بالکل معمول کے مطابق لگ رہا تھا، جیسے کسی اعلیٰ عہدے دار کی طرف سے مقامی معیشت کو فروغ دینے کی ایک مثال ہو۔
مگر یہ خوشی عارضی ثابت ہوئی۔ چند ہی گھنٹوں بعد پیزا ہٹ پاکستان نے ایک آفیشل بیان جاری کیا جو بم کی طرح پھٹا۔ کمپنی نے واضح الفاظ میں کہا کہ سیالکوٹ کینٹ میں کھولا گیا یہ آؤٹ لیٹ مکمل طور پر غیر مجاز ہے۔ یہ نہ تو پیزا ہٹ پاکستان سے منسلک ہے اور نہ ہی اس کی پیرنٹ کمپنی یم! برانڈز سے۔ بیان کے مطابق یہ آؤٹ لیٹ پیزا ہٹ کے بین الاقوامی ترکیبوں، کوالٹی پروٹوکولز اور فوڈ سیفٹی معیارات پر پورا نہیں اترتا۔ کمپنی نے فوری طور پر ٹریڈ مارک کی خلاف ورزی کی شکایت متعلقہ حکام کو درج کروا دی اور عوام کو متنبہ کیا کہ یہ ایک جعلی ادارہ ہے۔ یہ بیان سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو گیا اور وہ تصاویر، جو چند لمحے پہلے جشن کی علامت تھیں، اب مذاق کی بنیاد بن گئیں۔
یہ خبر صرف پاکستان تک محدود نہ رہی بلکہ سرحد پار بھارت تک جا پہنچی، جہاں میڈیا اور سوشل میڈیا صارفین نے اسے ہاتھوں ہاتھ لیا۔ بھارتی نیوز چینلز اور ویب سائٹس نے اس واقعے کو نمایاں سرخیوں کے ساتھ پیش کیا۔ کہیں اسے ’’جعلی پیزا ہٹ‘‘ کہا گیا، کہیں ’’صرف پاکستان میں ممکن‘‘ جیسے جملے استعمال کیے گئے، اور کہیں اسے پاکستان کی انتظامی ناکامی قرار دیا گیا۔ سوشل میڈیا پر میمز کی بھرمار ہو گئی۔ کسی نے لکھا کہ ’’صرف پاکستان میں ایک دفاعی وزیر جعلی پیزا ہٹ کا افتتاح کر سکتا ہے‘‘، تو کسی نے اسے ’’پیزا گیٹ‘‘ کا نام دے کر پاکستان کی قیادت اور نظام کو نشانہ بنایا۔ ٹرولنگ کی یہ لہر اتنی شدید تھی کہ معاملہ صرف خواجہ آصف تک محدود نہ رہا بلکہ پورے پاکستانی نظام کو اس کی زد میں لے لیا گیا۔
یہاں سے وہ سنگین سوالات جنم لیتے ہیں جو اس واقعے کو محض ایک مذاق سے کہیں آگے لے جاتے ہیں۔ ایک وفاقی وزیر، جو ملک کی دفاعی پالیسیوں کا ذمہ دار ہے، کسی تقریب میں شرکت سے پہلے اس کی تصدیق کیوں نہیں کرتا؟ کیا یہ صرف ایک انفرادی غلطی ہے یا پھر حکومتی سطح پر پروٹوکول اور احتیاط کی کمی کی علامت؟ اطلاعات کے مطابق خواجہ آصف کو افتتاح کے لیے مدعو کیا گیا تھا، مگر کسی قسم کی بیک گراؤنڈ چیکنگ نہیں کی گئی۔ یہ صورتحال اس بات پر سوال اٹھاتی ہے کہ اعلیٰ عہدوں پر فائز افراد کی تقریبات میں شرکت کے لیے آخر کیا معیار مقرر ہیں۔ اگر ایک وزیر آسانی سے ایک جعلی ادارے کا افتتاح کر سکتا ہے تو یہ قومی سطح پر اعتماد کے بحران کو ظاہر کرتا ہے۔
ساتھ ہی یہ سوال بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ جعلی ریسٹورنٹ کے مالکان کون ہیں اور ان کے خلاف کیا کارروائی ہو گی؟ یہ آؤٹ لیٹ سیالکوٹ کینٹ کے کچھ مقامی کاروباری افراد نے کھولا تھا، جو پیزا ہٹ کا نام اور لوگو غیر قانونی طور پر استعمال کر رہے تھے۔ ان کی شناخت ابھی تک سامنے نہیں آئی، مگر یہ حقیقت اپنی جگہ ہے کہ ٹریڈ مارک کی خلاف ورزی ایک سنگین جرم ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ متعلقہ ادارے واقعی کوئی کارروائی کرتے ہیں یا یہ معاملہ بھی فائلوں میں دفن ہو کر رہ جاتا ہے۔ پیزا ہٹ نے باضابطہ شکایت درج کرا دی ہے، مگر اس کے عملی نتائج کیا ہوں گے، یہ سوال پاکستان میں دانشورانہ ملکیت کے قوانین کی کمزوری کو بھی بے نقاب کرتا ہے۔
بھارتی میڈیا اور سوشل میڈیا کی جانب سے اس واقعے کو غیر معمولی حد تک اچھالنے کی وجوہات بھی قابلِ غور ہیں۔ کیا یہ محض ایک مذاق ہے یا اس کے پیچھے سیاسی رقابت اور پروپیگنڈا کارفرما ہے؟ بھارتی میڈیا نے اسے ’’پاکستان کے لیے بڑی شرمندگی‘‘ قرار دیا اور سوشل میڈیا پر ’’جعلی پیزا، جعلی ملک‘‘ جیسے طعنے دیے گئے۔ یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ دونوں ممالک کی رقابت میں ایسے واقعات کو کس طرح بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے، اور افسوسناک پہلو یہ ہے کہ پاکستان خود ایسی لغزشوں کے ذریعے دوسروں کو طنز کا موقع فراہم کر دیتا ہے۔
درحقیقت یہ واقعہ محض ایک افتتاحی تقریب کا قصہ نہیں بلکہ پاکستان کی انتظامی ساخت اور گورننس پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ کیا مقامی حکام نے ریسٹورنٹ کی رجسٹریشن چیک کی؟ فوڈ اتھارٹی نے اپنا کردار کیوں ادا نہیں کیا؟ اور سب سے بڑھ کر، یہ عوامی عہدوں پر بیٹھے افراد کی لاپرواہی کو عیاں کرتا ہے۔ اگر ایک وزیر آسانی سے دھوکے میں آ سکتا ہے تو عام شہریوں کے لیے خطرات کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ یہ معاملہ پاکستان میں کاروباری ماحول، برانڈ پروٹیکشن اور حکمرانی کی کمزوریوں کو ایک ساتھ سامنے لے آتا ہے۔
یہ ’’پیزا گیٹ‘‘ محض ایک مذاق نہیں بلکہ ایک آئینہ ہے، جو ہمارے نظام کی خامیوں کو بے نقاب کرتا ہے۔ ایک چھوٹی سی غفلت نے نہ صرف قومی شبیہ کو نقصان پہنچایا بلکہ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کو ہنسی کا نشانہ بھی بنا دیا۔ اب وقت ہے کہ ایسے واقعات سے سبق سیکھا جائے، تصدیق، احتساب اور شفافیت کو ترجیح دی جائے، ورنہ ایسے تماشے بار بار جنم لیتے رہیں گے اور ان سنگین سوالات کے جواب دینا مزید مشکل ہوتا چلا جائے گا۔
