اسلام آباد (کیو این این ورلڈ) الیکشن کمیشن آف پاکستان نے سالانہ مالی گوشوارے جمع نہ کروانے والے 159 ارکانِ پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں کی رکنیت فوری طور پر معطل کر دی ہے۔ الیکشن ایکٹ کے تحت تمام اراکینِ اسمبلی 15 جنوری تک اپنے اثاثوں کی تفصیلات جمع کرانے کے پابند تھے، جس میں ناکامی پر کمیشن نے یہ سخت قدم اٹھایا ہے۔ معطل ہونے والے اراکین میں قومی اسمبلی کے 32، سینیٹ کے 9، اور صوبائی اسمبلیوں کے 118 ارکان شامل ہیں۔ صوبائی سطح پر سب سے زیادہ پنجاب اسمبلی کے 50 ارکان متاثر ہوئے، جن میں صوبائی وزیرِ تعلیم رانا سکندر حیات بھی شامل ہیں، جبکہ سندھ اسمبلی کے 33، خیبر پختونخوا کے 28 اور بلوچستان اسمبلی کے 7 ارکان کی رکنیت معطل کی گئی ہے۔
معطل ہونے والے نمایاں اراکین میں وفاقی وزراء مصدق ملک، خالد مقبول صدیقی کے علاوہ ارشد وہرا، سردار اختر مینگل، سید عبدالقادر گیلانی، علی موسیٰ گیلانی، سائرہ افضل تارڑ اور مہرین رزاق بھٹو شامل ہیں۔ سینیٹ سے فوزیہ ارشد، عابد شیر علی، مراد سعید اور نور الحق قادری کی رکنیت بھی معطل کی گئی ہے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق معطل ارکان اپنی رکنیت کی بحالی تک پارلیمنٹ یا صوبائی اسمبلی کی کسی بھی قسم کی قانون سازی یا کارروائی میں حصہ لینے کے مجاز نہیں ہوں گے۔ یہ رکنیت صرف اسی صورت میں بحال کی جائے گی جب متعلقہ اراکین اپنے مالی گوشوارے الیکشن کمیشن میں جمع کروا کر کلیئرنس حاصل کر لیں گے۔