نئی دہلی (کیو این این ورلڈ) بھارت کا رواں سال خلا میں سیٹلائٹ بھیجنے کا پہلا بڑا مشن ایک بار پھر ناکامی سے دوچار ہو گیا ہے، جس کے نتیجے میں قومی سلامتی کے لیے تیار کیے گئے قیمتی سیٹلائٹ تباہ ہو گئے۔ بھارتی خلائی ایجنسی کے سربراہ نے مشن کی ناکامی کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ PSLV-C62 مشن کے تیسرے مرحلے میں راکٹ کو تکنیکی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، جس کے باعث وہ اپنی منزل تک پہنچنے میں ناکام رہا۔ یہ حالیہ عرصے میں بھارتی خلائی پروگرام کو لگنے والا دوسرا بڑا دھچکا ہے جس نے بھارت کی خلائی صلاحیتوں اور دعوؤں پر سوالیہ نشان لگا دیے ہیں۔

بھارتی میڈیا کے مطابق ‘ورک ہارس اسپیس فیرنگ راکٹ’ (PSLV) کو مسلسل ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ اس مشن میں بھارت نے قومی سلامتی کے حساس مقاصد کے لیے تیار کیے گئے لاکھوں ڈالر مالیت کے سیٹلائٹس خلا میں بھیجے تھے، جو راکٹ میں خرابی کے باعث زمین کے مدار تک پہنچنے سے پہلے ہی ملبے کا ڈھیر بن گئے۔ ان پے در پے ناکامیوں نے بھارتی خلائی ایجنسی کے لیے سنگین صورتحال پیدا کر دی ہے، کیونکہ یہ مشن دفاعی اور قومی سلامتی کے حوالے سے انتہائی اہمیت کے حامل تصور کیے جا رہے تھے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ راکٹ ٹیکنالوجی میں بار بار آنے والی تکنیکی خرابیاں اور لاکھوں ڈالرز کا ضیاع بھارت کے خلائی عزائم کے لیے ایک بڑی رکاوٹ بن گیا ہے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل بھی بھارت کو خلائی میدان میں ہزیمت اٹھانی پڑی تھی، جب گزشتہ ماہ 12 دسمبر 2025 کو بھی ایک اہم راکٹ تجربے کے دوران اڑان بھرنے کے کچھ ہی دیر بعد تکنیکی خرابی کے باعث فضا میں ہی تباہ ہو کر زمین پر گر گیا تھا۔ اس سے قبل 18 مئی 2025 کو بھی PSLV-C61 کی لانچنگ ناکامی سے دوچار ہوئی تھی۔ ایک سال کے اندر تین بڑے خلائی مشنز کی ناکامی نے بھارتی خلائی پروگرام کے حفاظتی معیار اور تکنیکی مہارت پر دنیا بھر میں شکوک و شبہات پیدا کر دیے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے