واشنگٹن (کیو این این ورلڈ) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران میں جاری حالیہ احتجاجی لہر کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے مظاہرین پر زور دیا ہے کہ وہ اپنا احتجاج جاری رکھیں اور سرکاری اداروں پر قبضہ کر لیں۔ اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ٹروتھ سوشل” پر جاری کردہ ایک تندوتیز پیغام میں صدر ٹرمپ نے مظاہرین کو ‘محب وطن’ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ پیچھے نہ ہٹیں کیونکہ ان کے لیے بیرونی مدد پہنچ رہی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایرانی عوام پر ظلم ڈھانے والوں اور مظاہرین کے قتل میں ملوث افراد کے نام یاد رکھے جائیں، کیونکہ ایسے عناصر کو اپنے کیے کی بہت بڑی قیمت چکانی پڑے گی اور انہیں کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ انہوں نے ایرانی حکام کے ساتھ طے شدہ اپنی تمام ملاقاتیں اس وقت تک کے لیے منسوخ کر دی ہیں جب تک نہتے مظاہرین کا قتل عام بند نہیں کر دیا جاتا۔ امریکی صدر نے واضح پیغام دیا کہ واشنگٹن ایران کی موجودہ صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور وہ ایرانی عوام کی تحریک کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔ ٹرمپ کے اس بیان کو تہران میں مداخلت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس نے پہلے ہی خطے میں کشیدگی کو بڑھا دیا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ امریکی صدر کی جانب سے ‘مدد پہنچ رہی ہے’ جیسے الفاظ کا استعمال ایران کے خلاف کسی بڑی سفارتی یا مادی کارروائی کا پیش خیمہ ہو سکتا ہے، جس پر عالمی سطح پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔