راولپنڈی (ویب ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے اڈیالہ روڈ داہگل ناکے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ملکی سیاسی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور مقتدر حلقوں سے مفاہمت کی اپیل کی ہے۔ بیرسٹر گوہر نے کہا کہ وہ ہر منگل کو اڈیالہ جیل آتے ہیں لیکن افسوس کے ساتھ انہیں ملاقات کی اجازت نہیں دی جاتی، انہوں نے جذباتی انداز میں کہا کہ وہ ذاتی مفاد کے لیے نہیں بلکہ ملک کے حالات بدلنے کے لیے ملاقات کی بھیک مانگتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تحریک اپنی جگہ لیکن مسائل کا حل مذاکرات میں ہی پوشیدہ ہے، مگر بدقسمتی سے حالات کے تقاضوں کے مطابق مذاکرات کی راہ ہموار نہیں کی جا رہی۔ بیرسٹر گوہر نے صاحبِ اقتدار طبقے سے درخواست کی کہ وہ ملکی بقاء اور قوم کے بچوں کے مستقبل پر رحم کرتے ہوئے اپنا دل بڑا کریں اور ایسے راستے نکالیں جس سے سیاسی تناؤ میں کمی اور حالات میں بہتری آ سکے۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے موجودہ نظام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے لیے سسٹم مکمل طور پر رک چکا ہے، اگر نظام درست کام کر رہا ہوتا تو ہمیں روزانہ یہاں کھڑا نہ ہونا پڑتا۔ انہوں نے گزشتہ سال کے حالات کا نقشہ کھینچتے ہوئے کہا کہ 2025 میں دشمن کے ساتھ تو سیز فائر ہو گیا لیکن ہمارا آپسی سیاسی تناؤ ختم نہ ہو سکا، جو کہ ایک المیہ ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ سال 2025 میں بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کو سزائیں سنائی گئیں اور اب جبکہ ہم 2026 میں داخل ہو رہے ہیں، تو خدشہ ہے کہ یہ سال بھی سزاؤں کا سال ہی ثابت ہوگا۔ بیرسٹر گوہر نے زور دیا کہ عدالتی احکامات اور ایس او پیز کے باوجود انہیں رکاوٹوں کا سامنا ہے، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ تلخیوں کو ختم کر کے ملک کو آگے لے جایا جائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے