شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کرشماتی لیڈر
تحریر: گل محمد جکھرانی
Email: gmjakhrani@hotmail.com
موت ایک اٹل حقیقت ہے وہ تو ہر ذی روح کو ہر حال میں اتی ہے مگر بعض ہستیوں کی زندگی اور موت دونوں ہی قابل رشک بن جاتی ہیں۔ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو بھی ایک ایسے ہی غیر معمولی مدبر اور عالمی سطح کی لیڈر تھی جو اپنے نظریات کی آبیاری اور عوام کی ہمت بندھانے کے لیے اپنی جان کا نظرانہ پیش کر کے امر ہو گئی ہیں۔
جمہوریت کی علمبردار دختر مشرق شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کو ہم سے بچھڑے ہوئے 18 سال بیت گئے ہیں مگر ان کے ناقابل فراموش کارہائے نمایاں دنیا کے سیاسی افق پر ہمیشہ چمکتے رہیں گے۔ دو مرتبہ پاکستان کی وزیراعظم بننے والی محترمہ بے نظیر بھٹو نے محض 35 برس کی عمر میں پاکستان اور عالم اسلام کی پہلی مسلم خاتون وزیراعظم کا اعزاز حاصل کیا۔
شہید محترمہ بے نظیر بھٹو طویل جلاوطنی کے بعد 18 اکتوبر 2007 کو جب اپنے وطن واپس پہنچی تو ان پر کراچی کے علاقے کارساز پر پہلا حملہ ہوا جس میں 200 سے زائد پاکستان پیپلز پارٹی کے جانثار کارکن شہید ہو گئے۔ بہرحال اس حملے کے باوجود بھی شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے بہادری کے ساتھ دوسرے روز اپنے زخمی کارکنوں کی عیادت کے لیے مختلف ہاسپٹل پہنچیں۔
واضح رہے 27 دسمبر 2007 کو راولپنڈی کے لیاقت باغ میں شہادت سے قبل اپنی تاریخی خطاب میں شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے کہا تھا کہ ہم اپنی زندگی یا اپنی ازادی اپنی جوانی اپنا ذہنی سکون سب جمہوریت کے لیے قربان کر دیا ہے اور پاکستان کی ترقی اور عزت جمہوریت میں ہے میں پاکستان کے لیے اپنی جان بھی دے سکتی ہوں۔
شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی زندگی پھولوں کی سیج نہ تھی۔ انہوں نے اپنی زندگی میں بڑے دکھ سہے جس میں انہوں نے اپنے والد شہید ذلفقار علی بھٹو کی شہادت، چھوٹے بھائی شاہنواز بھٹو کی پراصرار موت اور ایک بھائی میر مرتضی بھٹو کی سرعام قتل جیسے بڑے دکھ دیکھے۔ یہ ایسے صدمات ہیں جنہیں سہنا اسان نہیں ہوتا۔
شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی سیاسی سفر کردار عملی جدوجہد کو دیکھ کر بلا شبہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ انتہائی پختہ اور جرات مند سیاستدان تھی۔ انہوں نے اپنے دکھوں کو عوام کے دکھوں سے جوڑ کر طاقت میں تبدیل کر دیا تھا۔ وہ اپنی توانا اواز سے ملک دشمن قوتوں کو اخری سانس تک للکارتی رہیں۔
بہرحال 27 دسمبر 2007 کو راولپنڈی کے لیاقت باغ میں پاکستان کی بے مثال اور بہادر بیٹی شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کو ایک دہشت گرد حملے میں صفاقانہ طریقے سے قتل کر کے شہید کر دیا گیا اور بحالی جمہوریت کی مشل کو روشن کرتے کرتے تاریخ کا ایک امر کردار بن گئی جنہیں رہتی دنیا تک یاد رکھا جائے گا۔
انقلابی شاعر فیض احمد فیض نے کہا تھا،
"جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا، وہ شان سلامت رہتی ہے”
بہرحال پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئر پرسن اور اسلامی دنیا کی پہلی منتخب مسلم خاتون وزیراعظم شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی آج شہادت کا دن ہے۔ آج سے 18 سال قبل دنیا کی عظیم لیڈر سابق وزیراعظم پاکستان محترمہ بینظیر بھٹو کو فوجی آمر جنرل پرویز مشرف نے عالمی قوتوں کی سازش اور ملی بھگت سے دہشت گردوں کے ہاتھوں پنجاب کے شہر راولپنڈی کے لیاقت باغ میں محترمہ بینظیر بھٹو شہید کروایا۔
اس کے علاوہ سینکڑوں پیپلز پارٹی کے کارکن کو شہید اور زخمی ہوئے۔ آج 27 دسمبر 2025 کو شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی 18ویں برسی ہے۔ سامراجی قوتوں اور اسٹیبلشمنٹ کے سازش کے تحت شہید محترمہ بینظیر بھٹو کو قتل کرکے پاکستان کی عوام سے جسمانی طور پر ضرور جدا کیا گیا مگر 18 سال گزرنے کے باوجود بھی شہید محترمہ بینظیر بھٹو پاکستان کی کروڑوں عوام کی دلوں پر راج کر رہی ہیں۔
بہرحال 27 دسمبر پاکستان کے علاوہ پوری دنیا کے لیے ایک سیاہ دن ہے۔ 27 دسمبر 2007 وہ بدبخت دن ہے جس دن سندھ دھرتی سے تعلق رکھنے والی پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئر پرسن محترمہ بینظیر بھٹو پاکستان کی کروڑوں عوام اور پارٹی کارکنان کو غمگین چھوڑ کر اس دنیا سے ہمیشہ کے لیے رخصت ہو گئی، سازشی کرداروں نے پاکستان کی حقیقی اور مقبول ترین رہنما محترمہ بینظیر بھٹو کو ہم سے جسمانی طور پر جدا کیا۔
شہید محترمہ بینظیر بھٹو اپنے والد قائد عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو کی نقش قدم پر چلتے ہوئے پوری زندگی غریب عوام کے لیے وقف کر چکی تھی اور اپنی پوری زندگی عوام کے حقوق جمہوریت کی بحالی اور آئین کی بالادستی کے لیے وقف کر چکی تھی۔
شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے جنرل ضیا سے لے کر جنرل مشرف کے تمام ظلم اور جبر کا بہادری کے ساتھ مقابلہ کیا اور ملک کے اندر جمہوریت کی بحالی اور ائین کی بالادستی کے لیے جدو جہد کرتے ہوئے اپنے جان کا نظرانہ پیش کر کے ہمیشہ کے لیے امر ہو گئی۔
شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے اپنے سیاسی زندگی کا اغاز اس وقت شروع کیا جب دنیا کے ماڈل ڈکٹیٹر فوجی آمر جنرل ضیاء نے پاکستان پیپلزپارٹی کے بانی چیئرمین سابق وزیراعظم شہید ذوالفقار علی بھٹو کی منتخب حکومت کو ختم کرکے ملک کے اندر مارشل لا نافذ کیا اور آمریت کی بنیاد ڈالی۔
جنرل ضیاء نے شہید ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کا خاتمہ کرنے کے بعد انہیں ایک جھوٹے مقدمے میں پھنسا کر عدالت کے ذریعے شہید کروا دیا جس کا سپریم کورٹ نے بھی کیا ہے کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو فیئر ٹرائل کا موقع نہیں دیا گیا اور انہیں انصاف نہیں ملا۔
بہر حال شہید بھٹو کی شہادت کے بعد پاکستان پیپلزپارٹی کی باگ ڈور ان کی صاحبزادی محترمہ بینظیر بھٹو نے سنبھالی تھی۔ اس طرح شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے عوام اور پاکستان پیپلز پارٹی کے کارکنوں کو اکیلا نہیں چھوڑا اور عوام کے ساتھ جینے اور مرنے کا فیصلہ کیا۔
انہوں نے جنرل ضیاء الحق کے ہر جبر اور ظلم و زیادتی کا بہادری کے ساتھ مقابلہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ بہرحال سازشی قوتوں نے 27 دسمبر 2007 کو لیاقت باغ راولپنڈی میں ایک بم دھماکے کے ذریعے انہیں شہید کروا دیا۔
آج وہ جسمانی طور پر ہمارے درمیان موجود نہیں مگر ان کے بتائے گئے اصول اور پارٹی کا منشور ہمارے پاس موجود ہے۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی باقی ماندہ مشن کو جاری رکھنے کے لیے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور صدر اصف علی زرداری کی قیادت میں آج بھی جدوجہد جاری ہے۔
بہرحال اج 27 دسمبر 2025 کو گڑھی خدا بخش بھٹو میں شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی برسی کے موقع پر ایک عظیم الشان اور تاریخی جلسہ منعقد ہوگا جس میں پاکستان کے ہر صوبے سے پارٹی کے کارکنان اور لاکھوں کی تعداد میں عوام شہید محترمہ بینظیر بھٹو کو خراج عقیدت پیش کرینگے اور ان کی برسی کو جوش اور جذبے کے ساتھ منایا جائے گا۔
ملک کے چاروں صوبوں کے علاوہ گلگت بلتستان اور ازاد کشمیر سمیت لاکھوں کی تعداد میں عوام بھرپور شرکت کر کے انہیں سلام عقیدت پیش کریں گے۔
شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے جنرل ضیاء سے لے کر جنرل مشرف کے سازشی اور سامراجی قوتوں کے ہر ظلم اور جبر کا دلیری سے مقابلہ کیا۔ خاص کر جنرل ضیا کے ظالمانہ مارشل لا کے دور میں انہوں نے تقریبا ساڑھے پانچ سال جیل میں قید و صعوبتوں اور ہر سختی و ظلم کو برداشت کیا۔ واضح رہے محترمہ بے نظیر بھٹو 1984 سے لے کر 1985 تک بیرون ملک جلاوطنی کی زندگی گزاری تھی۔
شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی جلاوطنی کے دوران ان کے چھوٹے بھائی شاہ نواز بھٹو کو فرانس میں شہید کروایا گیا تھا مگر ان کے باوجود اس نے ہمت نہ ہاری اور جنرل ضیا کے آمرانہ حکومت کے خلاف اپنے جدوجہد کو جاری رکھا۔
اخر کار شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے اپنے جلاوطنی کو ختم کرکے 10 اپریل 1986 کو پنجاب کے شہر لاہور پہنچی جہاں شہید محترمہ بینظیر بھٹو کا تاریخی استقبال کیا گیا جس میں تقریبا 10 لاکھ کے قریب عوام اور پارٹی کے کارکنان نے اپنے محبوب لیڈر کا تاریخی اور شاندار استقبال کیا۔
محترمہ بینظیر بھٹو کی تاریخی استقبال نے اسلام اباد کے ایوانوں کو ہلا کر رکھ دیا۔ محترمہ بینظیر بھٹو کی واپسی کے بعد ملک کے اندر سیاسی ماحول میں گرما گرمی پیدا ہوئی اور بین الاقوامی سطح پر اس نے اپنے سیاسی ساکھ کو مضبوط اور مستحکم کیا۔
ایک کہاوت ہے اللہ کے ہاں دیر ہے اندھیر نہیں ہے۔ جس ظالم اور جابر فوجی حکمران جنرل ضیا نے تیسری دنیا اور پاکستان کے عظیم لیڈر شہید ذوالفقار علی بھٹو کو عدالت کے ذریعے قتل کروایا اور ہزاروں کارکنان کے اوپر ظلم کے پہاڑ توڑ دیے اخر کار ان کا خاتمہ اور بھیانک موت 1988 میں ایک جہاز کے حادثے میں ہوا۔
اس طرح شہید بھٹو اور جمہوریت پسند سیاسی کارکنوں کے قاتل اپنے منطقی انجام کو جا پہنچا اور جنرل ضیا کا اخری دیدار ان کے خاندان سمیت کسی کو بھی نصیب نہیں ہوا۔
بہرحال جنرل ضیاء کے ہلاکت کے بعد 1988 میں ملک کے اندر عام انتخابات کروائے گئے جس کے نتیجے میں پاکستان پیپلز پارٹی نے سب سے زیادہ سیٹیں حاصل کر کے سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری۔
1988 کے عام انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی کی کامیابی کے بعد دنیا کی پہلی اور عالم اسلام کی پہلی مسلم خاتون محترمہ بے نظیر بھٹو نے 2 دسمبر 1988 کو پاکستان کے وزیراعظم کے حیثیت سے حلف اٹھا کر پوری دنیا اور عالم اسلام میں ایک ریکارڈ قائم کیا۔
آج اس عظیم خاتون سابق وزیراعظم شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی 18ویں برسی کو گڑھی خدابخش بھٹو میں بڑے جوش و جذبے عقیدت و احترام کے ساتھ منایا جا رہا ہے۔پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت اور کارکنان نے بہت سارے نشیب و فراز دیکھے اس کے باوجود اج بھی پاکستان پیپلز پارٹی ملک کی سب سے بڑی پارٹی ہے۔
دنیا کی تاریخ کو اگر دیکھا جائے تو دنیا کے بہت سارے مشہور لیڈروں کو کسی نہ کسی طریقے سے قتل کروایا گیا مگر جو ظلم شہید ذوالفقار علی بھٹو اور ان کے خاندان کے ساتھ ہوا ان کی مثال پوری دنیا میں کہیں بھی نہیں ملتی۔
جس کی واضع مثال یہ ہے ذوالفقار علی بھٹو، محترمہ بینظیر بھٹو، میر مرتضیٰ بھٹو اور میر شاہنواز بھٹو کو بے دردی سے قتل کروایا گیا جو دنیا کے بڑے صدموں میں سب سے بڑا صدمہ ہے۔
بھٹو خاندان کے ساتھ جو ظلم اور زیادتی ہوئی ہیں اس کو اج بھی پاکستان کی عوام یاد کرکے روتے ہیں۔ مادر جمہوریت بیگم نصرت بھٹو نے ان تمام مظالم اور زیادتیوں کو اپنے انکھوں سے دیکھا ان صدموں کی وجہ سے وہ بھی اس دنیا سے رخصت ہو گئی۔
27 دسمبر 2007 پاکستان کے تاریخ کا ایک سیاہ ترین دن ہے۔ محترمہ بینظیر بھٹو چاروں صوبوں کی زنجیر تھی جس کو سامراجی قوتوں اور دہشتکردوں نے قتل کرکے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ہم سے جدا کیا۔لیکن ان کی شہادت کے بعد پاکستان کی بنیادیں کمزور ہو چکی تھی مگر ان حالات کے باوجود صدر پاکستان اصف علی زرداری نے اپنی دور اندیشی سے پاکستان کھپے کا نعرہ لگا کر ملک دشمن عناصر کی سازشوں کو ناکام بنا دیا۔محترمہ بینظیر بھٹو کے شہادت کے دن کے موقع پر ایک بات پر ضرور تبصرہ کروں گا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے گزشتہ تین سالوں میں کیا کھویا اور کیا پایا۔
واضح رہے کہ تین سال پہلے 27 فروری 2022 کو پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پارٹی کارکنان اور عوام کے ساتھ عمران خان کی حکومت کے خلاف لانگ مارچ کا کراچی سے اسلام اباد تک اغاز کیا تھا۔
چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سندھ اور پنجاب کے مختلف شہروں میں عوامی جلسوں سے خطاب کرتے ہوئے اخری جلسہ ڈی چوک اسلام آباد میں کیا۔ اسلام آباد کے جلسے میں پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اس وقت کے وزیراعظم عمران خان سے مستفی ہونے کا مطالبہ کیا۔
بہرحال ملک کے اندر ایسے حالات پیدا ہوئے اخرکار عمران خان کی حکومت کا خاتمہ ہوا۔ پی ٹی آئی حکومت کے خاتمے کے بعد مختلف جماعتوں پر مشتمل پی ڈی ایم کی حکومت قائم ہو گئی جس میں مسلم لیگ نواز کے شہباز شریف کو پاکستان کا وزیراعظم اور پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو وزیر خارجہ مقرر کیا گیا۔
جیسے ہی پی ڈی ایم نے حکومت سنبھالی تو کچھ وقت کے بعد بارشوں اور سیلاب نے ملک کے اندر تباہی مچا دی جس کی وجہ سے کروڑوں لوگ بے گھر ہوئے اور ملک کی معیشت کو شدید نقصان پہنچا۔اس کے علاوہ ملک کے اندر مہنگائی کا ایک طوفان برپا ہوا مہنگائی کی وجہ سے غریب عوام کا جینا دو بھر ہو گیا۔اس وقت وزیر خارجہ اور پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سیلاب متاثرین کے بحالی کے لیے دن رات محنت کی اور مختلف ممالک دورے کرکے پاکستان کی معیشت کو بحال کرانے کی بھرپور کوشش کی۔
چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بحیثیت وزیر خارجہ دن رات کام اور محنت کرکے ثابت کیا کہ وہ ملک کے کامیاب ترین وزیر خارجہ اور مقبول ترین لیڈر ہیں۔واضح رہے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری جب وزیر خارجہ بنے تھے تو اس کی مصروفیات کی وجہ سے ان کا پارٹی کارکنان اور عوام سے رابطے کا فقدان رہا جو آج تک جاری ہے۔
کارکنون اور عوام رابطہ کم ہونے کے علاوہ پاکستان پیپلز پارٹی کا نواز لیگ اور مختلف قوتوں کے ساتھ مفاہمت کی وجہ سے پنجاب سے تعلق رکھنے والے پارٹی کارکن اور سپورٹر مایوسی کا شکار ہیں یا وہ خاموشی اختیار کرکے ایک سائیڈ پہ ہو گئے۔جس کی واضح مثال 28 فروری 2024 کے عام انتخابات ہیں جس میں پاکستان پیپلز پارٹی کو پنجاب میں کوئی خاطر خواہ نتیجہ نہیں ملا جو ایک تشویش ناک بات ہے۔
مفاہمت کے بادشاہ آصف علی زرداری نے نواز لیگ اور اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مفاہمت کرکے اہم آئینی عہدے ضرور حاصل کیے پر اس مفاہمت کی وجہ سے پنجاب اور خیبر پختون خواہ میں اسٹیبلشمنٹ کے مخالف پیپلز پارٹی کے کارکن اور ووٹر ناراض ہو کر خاموش ہو گئے۔
اس میں کوئی شک نہیں پیپلز پارٹی نے وفاق میں کوئی وزرات نہیں لی مگر اس کے باوجود وہ مسلم لیگ نواز کی حکومت کی ہر قسم مدد کررہی ہے جس میں 26ویں اور 27ویں ائینی ترامیم سمیت مختلف معاملات شامل ہیں۔
دوسری جانب پاکستان مسلم لیگ نواز پاکستان پیپلز پارٹی کو اب وہ کوئی اہمیت نہیں دے رہی ہے جس کی واضح مثال دریائے سندھ پر چھ کینالس بنانے کا معاملہ اور پنجاب کے اندر پاور شیئرنگ کے علاوہ گزشتہ دنوں خاتون اول بی بی اصفہ بھٹو زرداری نے اسلام اباد ایئرپورٹ کا نام تبدیل کر کے شہید بے نظیر بھٹو انٹرنیشنل ایئرپورٹ رکھنے کی جو تحریک پیش کی اس کو کورم کا بہانہ بنا کر قومی اسمبلی کے اجلاس کو ملتوی کر دیا گیا۔
اور ایک وفاقی وزیر نے پاکستان پیپلز پارٹی کی خاتون سینیٹر پلوشہ خان سے بھی بدتمیزی اور غلط رویہ اختیار کرنا اور دیگر معاملات پر کھینچا تانی جاری ہے۔نواز لیگ عملی طور پر پاکستان پیپلز پارٹی کو کھڈے لائن لگانے کی کوشش کر رہی ہے۔
بہرحال پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور صدر آصف علی زرداری سمیت پارٹی کی مرکزی قیادت کو چاہیے کہ وہ پارٹی کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے نواز لیگ کے ساتھ مفاہمتی پالیسی پر نظر ثانی کریں۔اور پاکستان پیپلز پارٹی کے قربانی دینے والے سینیئر کارکنان کو اہمیت دیں اور ان کو اہم عہدے دیے جائیں۔
اس کے سندھ اور پنجاب میں پارٹی کی صوبائی لیول سے لے کر ڈویژن سطح تک گزشتہ آٹھ سالوں سے مسلط کردہ عہدے داروں کو فوری طور پر فارغ کر دیا جائے اور پارٹی کی نئے سر ے سے تنظیم سازی کی جائے تاکہ پاکستان پیپلز پارٹی مزید مضبوط ہو سکے۔