ڈیرہ غازیخان(الیکشن سیل)ڈیرہ غازی خان کے تاریخی اور معزز جم خانہ کلب میں ہونے والے انتخابات شدید تنازع کا شکار ہو گئے ہیں، جہاں بعض امیدواروں پر ممبران کی فیسیں خفیہ طور پر ادا کر کے ووٹ حاصل کرنے کے سنگین الزامات سامنے آئے ہیں۔ ان الزامات نے نہ صرف انتخابی عمل کی شفافیت پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے بلکہ کلب کی ساکھ اور جمہوری روایات کو بھی خطرے میں ڈال دیا ہے۔

ذرائع سے موصول ہونے والی معلومات کے مطابق موجودہ انتخابی مہم کے دوران خاص طور پر بعض بااثر امیدوار، جن میں سکریٹری شپ کے امیدوار بھی شامل بتائے جا رہے ہیں، انتخابی ضابطۂ اخلاق کی مبینہ طور پر کھلی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق یہ امیدوار بعض ممبران کی بقایاجات اور ماہانہ فیسیں اپنی جیب سے کلب کے اکاؤنٹ میں جمع کروا رہے ہیں، جبکہ متعلقہ ممبران کو اس عمل سے لاعلم رکھا جا رہا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ بعد ازاں ان ممبران سے ووٹ کی حمایت طلب کی جاتی ہے، جسے مبصرین ووٹ خریدنے کی ایک منظم اور غیر اخلاقی کوشش قرار دے رہے ہیں۔ ممبران کی مالی ذمہ داریاں ادا کر کے ان کی رائے پر اثرانداز ہونا نہ صرف جمہوری اقدار کے منافی ہے بلکہ کلب کے طے شدہ انتخابی اصولوں کی بھی خلاف ورزی تصور کی جا رہی ہے۔

اس صورتحال نے کئی اہم سوالات کو جنم دے دیا ہے۔ کیا ممبران کی فیسیں ادا کر کے ان کی حمایت حاصل کرنا انتخابی ضابطۂ اخلاق کے مطابق ہے؟ کیا اس عمل سے ممبران کی آزادانہ رائے متاثر نہیں ہو رہی؟ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ الیکشن کمیٹی اور کلب انتظامیہ ان سنگین الزامات پر خاموش کیوں ہیں؟

ممبران اور کلب کے حلقوں میں یہ تشویش بھی پائی جاتی ہے کہ اگر ان الزامات کی فوری، غیر جانبدار اور شفاف تحقیقات نہ کی گئیں تو انتخابات کی ساکھ بری طرح متاثر ہو سکتی ہے اور نتائج ہمیشہ کے لیے متنازع بن سکتے ہیں۔ ڈیرہ غازی خان جم خانہ کلب، جو شہر کی اشرافیہ کا مرکز اور ایک تاریخی ادارہ سمجھا جاتا ہے، ایسے الزامات کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

کلب کے باشعور ممبران مطالبہ کر رہے ہیں کہ الیکشن کمیٹی فوری طور پر اس معاملے کا نوٹس لے، انتخابی ضابطۂ اخلاق پر سختی سے عملدرآمد کروایا جائے اور تمام امیدواروں کے لیے یکساں اور شفاف مواقع یقینی بنائے جائیں، تاکہ کلب کی جمہوری روایات اور ادارہ جاتی وقار محفوظ رہ سکے۔

یہ معاملہ اب صرف کلب کے اندرونی حلقوں تک محدود نہیں رہا بلکہ شہر بھر میں زیرِ بحث ہے۔ ممبران کا کہنا ہے کہ اگر آج آواز نہ اٹھائی گئی تو کل یہ روایت بن جائے گی، جو کلب کے مستقبل کے لیے نہایت خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔

(نوٹ: یہ رپورٹ معتبر ذرائع پر مبنی ہے اور کلب کی بہتری کے لیے عوامی توجہ مبذول کرانے کے مقصد سے شائع کی جا رہی ہے۔)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے