خیبر (کیو این این ورلڈ / نامہ نگار نورحلیم آفریدی) انجمن تاجران باڑہ کے صدر سید ایاز وزیر نے ضلع خیبر، بالخصوص تحصیل باڑہ میں منظور شدہ ترقیاتی منصوبوں کی منسوخی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعظم پاکستان، گورنر خیبرپختونخوا اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ منظور شدہ ترقیاتی اسکیموں کو سالانہ ترقیاتی پروگرام (اے ڈی پی) سے خارج کرنے کے بجائے ان کی شفاف تحقیقات کی جائیں اور طریقہ کار میں موجود تکنیکی خامیوں کو دور کرکے منصوبوں پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔
اپنے بیان میں سید ایاز وزیر نے کہا کہ ضلع خیبر گزشتہ دو دہائیوں سے بدامنی اور جنگی حالات سے متاثر رہا ہے، جبکہ سابقہ فاٹا دور میں بھی تحصیل باڑہ میں ترقیاتی منصوبوں پر خاطر خواہ کام نہیں ہو سکا۔ فاٹا کے خیبرپختونخوا میں انضمام کے بعد اب بمشکل چند ترقیاتی منصوبے منظور ہوئے ہیں، جو علاقے کی مجموعی ضروریات کے مقابلے میں آٹے میں نمک کے برابر ہیں۔ ایسے حالات میں پہلے سے منظور شدہ منصوبوں کو منسوخ کرنا جنگ زدہ قبائلی عوام کے ساتھ ناانصافی اور امتیازی سلوک کے مترادف ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر منظور شدہ ترقیاتی منصوبوں کے طریقہ کار، ٹینڈرنگ یا دیگر معاملات میں کوئی بے ضابطگی یا تکنیکی غلطی سامنے آئی ہے تو اس کی شفاف تحقیقات کی جائیں۔ جہاں خامیاں موجود ہوں، انہیں دور کیا جائے اور ضرورت پڑنے پر دوبارہ ٹینڈرنگ کا عمل مکمل کیا جائے، تاہم کسی بھی صورت ان منصوبوں کو اے ڈی پی سے خارج نہیں کیا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ انتظامی یا تکنیکی غلطیوں کی سزا علاقے کے عوام کو نہیں ملنی چاہیے۔
سید ایاز وزیر نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے متعدد وزرائے اعلیٰ اپنے ادوار میں ترقیاتی منصوبے منظور کرتے رہے ہیں، لیکن ضلع خیبر سے تعلق رکھنے والے وزیراعلیٰ کے عہدے سے جانے کے چند ہی دن بعد ان کے منظور کردہ منصوبوں کی منسوخی کا فیصلہ کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔ ان کے بقول ابھی تک نہ کوئی باقاعدہ کمیٹی تشکیل دی گئی، نہ متعلقہ مقامات کے دورے کیے گئے اور نہ ہی منصوبوں کا موقع پر جائزہ لیا گیا۔ ایسے میں منصوبوں کی منسوخی کا فیصلہ تشویش ناک ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ تحصیل باڑہ اور وادی تیراہ کا انفراسٹرکچر بدامنی کے باعث بری طرح متاثر ہو چکا ہے۔ سڑکوں، بنیادی سہولیات اور دیگر ترقیاتی ضروریات کے حوالے سے علاقے کو بہت زیادہ مشکلات کا سامنا ہے اور تعمیر و ترقی کے سفر میں تقریباً صفر سے آغاز کرنا پڑ رہا ہے۔ ان حالات میں محدود تعداد میں منظور ہونے والے ترقیاتی منصوبوں کو ختم کرنا قبائلی عوام کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک ہوگا۔
انجمن تاجران باڑہ کے صدر نے وزیراعظم شہباز شریف، گورنر خیبرپختونخوا، متعلقہ محکموں اور گورنر کے نمائندے سے مطالبہ کیا کہ ضلع خیبر، بالخصوص تحصیل باڑہ کے منظور شدہ ترقیاتی منصوبوں کی غیر جانبدارانہ اور شفاف جانچ پڑتال کی جائے۔ اگر کسی منصوبے میں انتظامی، قانونی یا تکنیکی خامیاں موجود ہیں تو ان کی اصلاح کرکے دوبارہ ٹینڈرنگ کا عمل مکمل کیا جائے، لیکن کسی بھی منظور شدہ منصوبے کو اے ڈی پی سے ختم نہ کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ قبائلی عوام نے ملک و قوم کی خاطر بے شمار قربانیاں دی ہیں، اپنے پیاروں کی جانوں کے نذرانے پیش کیے ہیں اور طویل عرصے تک بدامنی کے اثرات برداشت کیے ہیں۔ وادی تیراہ کے آفریدی قبائل کے متعدد خاندان موجودہ وقت میں بھی آئی ڈی پیز کی زندگی گزار رہے ہیں اور اپنے علاقوں سے نقل مکانی پر مجبور ہیں۔ ایسے حالات میں ان کے علاقوں کے لیے منظور شدہ ترقیاتی منصوبوں کی منسوخی انتہائی افسوس ناک اقدام ہے، جس سے پہلے ہی مشکلات کا شکار عوام کی محرومیوں میں مزید اضافہ ہوگا۔
آخر میں سید ایاز وزیر نے قبائلی عوام سے اپیل کی کہ وہ اپنے جائز حقوق، علاقے کی تعمیر و ترقی اور منظور شدہ ترقیاتی منصوبوں کے تحفظ کے لیے متحد ہو کر آواز بلند کریں تاکہ ضلع خیبر کو بھی ترقی کے قومی دھارے میں شامل کیا جا سکے اور عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی ممکن بنائی جا سکے۔