ایک روحانی شخصیت اور یادگار محفلیں

خلاصہ
پیر حمید خان سرکار المعروف خان بابا ضلع ہری پور کی ایک معروف روحانی شخصیت تھے، جن کا ڈیرہ سیاست دانوں، جج صاحبان، وکلا، صحافیوں، تاجروں، بیوروکریٹس اور عام لوگوں کے لیے ملاقات، محبت اور مہمان نوازی کا مرکز تھا۔ ڈاکٹر شجاع اختر اعوان نے 2003ء سے ان کے ساتھ اپنی ملاقاتوں اور ذاتی مشاہدات کی روشنی میں ان کی زندگی کے مختلف پہلو بیان کیے ہیں۔

تحریر میں ان کی مردم شناسی، سادگی، بے نیازی، درویش منش طبیعت، منفرد اندازِ گفتگو، روحانی روایات اور وسیع لنگر کا خصوصی ذکر کیا گیا ہے۔ مصنف نے ان سے وابستہ سیاسی و سماجی شخصیات کی آمدورفت، داتا دربار کے موچی کا واقعہ، میاں نواز شریف کے حوالے سے ان کی پیش گوئی، دنیاوی مال و دولت سے بے رغبتی اور ملک شہزادہ خان آف بولیانوال کے ساتھ ان کے دوستانہ تعلقات کی یادیں بھی بیان کی ہیں۔

مضمون کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ انسان کی اصل پہچان اس کے عہدے، دولت یا شہرت سے نہیں بلکہ اس محبت، خلوص، سخاوت اور انسان دوستی سے بنتی ہے جو وہ اپنے پیچھے چھوڑ جاتا ہے۔ پیر حمید سرکار کی وفات کے باوجود ان کی یادیں، ان کا دسترخوان اور ان سے وابستہ عقیدت آج بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ ہے۔

پیر حمید خان سرکار المعروف خان بابا سے وابستہ یادیں
تحریر: ڈاکٹر شجاع اختر اعوان
پہلی قسط: ایک روحانی شخصیت اور یادگار محفلیں
پیر حمید خان سرکار المعروف خان بابا پاکستان کی معروف روحانی شخصیات میں شمار ہوتے تھے۔ ان کا تعلق گاؤں کنڈی عمر خانہ، تحصیل غازی، ضلع ہری پور سے تھا اور وہ مشوانی پشتون قبیلے سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کے عقیدت مندوں کی تعداد لاکھوں میں بیان کی جاتی ہے، جن میں ملک کے مختلف علاقوں اور شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد شامل تھے۔ ان کا ڈیرہ ایک عرصے تک روحانی، سماجی اور عوامی میل جول کا مرکز رہا، جہاں سیاست دانوں، جج صاحبان، وکلا، صحافیوں، تاجروں، بیوروکریٹس اور عام لوگوں کی آمدورفت رہتی تھی۔ سادگی، بے نیازی، مہمان نوازی، وسیع لنگر اور خدمتِ خلق ان کی شخصیت کے نمایاں پہلو تھے۔

12 فروری 2025ء کو 89 برس کی عمر میں وہ اس دنیا سے رخصت ہوگئے، لیکن ان کی وفات کے بعد بھی ملک بھر سے عقیدت مند ان کے مزار پر حاضری دیتے، فاتحہ خوانی کرتے اور اپنی عقیدت کا اظہار کرتے ہیں۔ ان کا شمار بھی ان ہستیوں میں ہوتا ہے جو دنیا سے رخصت ہو کر بھی دلوں سے کبھی رخصت نہیں ہوتیں۔ ان کی باتیں، ان کا اندازِ گفتگو، محبت بھرا برتاؤ اور ان سے وابستہ یادیں وقت گزرنے کے ساتھ مزید گہری ہوتی جاتی ہیں۔ ایسے لوگ اپنے پیچھے صرف یادیں نہیں چھوڑتے بلکہ محبت، خلوص اور انسان دوستی کی ایسی داستان رقم کر جاتے ہیں جو مدتوں لوگوں کے دلوں میں زندہ رہتی ہے۔ پیر حمید سرکار بھی ایسی ہی شخصیت تھے۔ ان کی محفلوں میں گزرے ہوئے لمحات آج بھی میرے حافظے میں محفوظ ہیں اور جب کبھی ان کا ذکر آتا ہے تو ماضی کے کئی خوب صورت منظر آنکھوں کے سامنے آ جاتے ہیں۔

پیر حمید خان سرکار سے میری ملاقاتوں کا سلسلہ 2003ء میں شروع ہوا۔ اس کے بعد وقتاً فوقتاً ان کی خدمت میں حاضری ہوتی رہی۔ عموماً اتوار کے روز ڈیرے پر جانے کا موقع ملتا، کبھی دوستوں اور احباب کے ہمراہ اور کبھی خصوصی لنگر کی محفلوں میں شرکت کے لیے۔ ان ملاقاتوں کے دوران ان کے مزاج، معمولات، مہمان نوازی اور لوگوں سے برتاؤ کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ رفتہ رفتہ ان کی شخصیت کے کئی پہلو میرے ذہن میں نقش ہوتے چلے گئے، جو آج بھی اسی طرح تازہ ہیں۔

ان کا ڈیرہ محض خانقاہ یا ملاقات کی جگہ نہیں تھا بلکہ ایک ایسا مرکز تھا جہاں معاشرے کے مختلف طبقات کے لوگ ایک ساتھ بیٹھتے تھے۔ وہاں سابق چیف جسٹس صاحبان، ریٹائرڈ جج، نامور وکلا، اخبارات کے مالکان، صحافی، تاجر، سیاسی رہنما، بیوروکریٹس، قومی و صوبائی اسمبلیوں کے منتخب نمائندے اور بڑی تعداد میں درویش منش افراد آتے جاتے دکھائی دیتے تھے۔ اس محفل کی خوب صورتی یہ تھی کہ کسی شخص کو اس کے عہدے، دولت یا سماجی مرتبے کی بنیاد پر نہیں پرکھا جاتا تھا۔ وہاں آنے والا ہر شخص ان کے لیے ایک مہمان اور قابلِ احترام انسان تھا۔

اس ڈیرے پر ملک کی کئی معروف سیاسی اور سماجی شخصیات کی آمدورفت رہی۔ سابق صدر پاکستان جنرل ضیاء الحق کے صاحبزادے انور الحق اور اعجاز الحق، ان کی صاحبزادی زین ضیاء بھی اکثر اتوار کے روز حاضری دیا کرتے تھے۔ مجھے خود اعجاز الحق، سابق چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان شیخ ریاض احمد اور دیگر کئی اہم شخصیات کے ساتھ وہاں لنگر تناول کرنے کا موقع ملا۔ یہ میرے لیے ایک یادگار تجربہ تھا کہ ایک ہی دسترخوان پر مختلف پس منظر اور مرتبے کے لوگ بیٹھے ہوئے تھے۔

سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف، سابق وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی اور دیگر سیاسی شخصیات کی آمد کا ذکر بھی ان یادوں میں شامل ہے۔ سابق وزیراعظم غلام مصطفیٰ جتوئی، معراج خالد، محترمہ بے نظیر بھٹو، سردار عتیق احمد خان، سید نیئر حسین بخاری اور بابر اعوان جیسی شخصیات کے حوالے سے بھی اس ڈیرے کا تذکرہ کیا جاتا رہا ہے۔ اسی طرح میں نے وہاں سابق ایم این اے و وفاقی وزیر شیخ آفتاب احمد، سابق ضلع ناظم میجر طاہر صادق، ایم این اے ملک سہیل اور گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان کو بھی اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ ان شخصیات کی آمدورفت سے اندازہ ہوتا تھا کہ ان کا حلقۂ احباب کسی ایک طبقے یا علاقے تک محدود نہیں تھا۔

قانون کے شعبے سے وابستہ افراد بھی ان محفلوں میں شریک ہوتے تھے۔ اٹک کے معروف قانون دان، ادیب اور شاعر احمد علی ثاقب المعروف ثاقب شاہزیب وہاں دکھائی دیتے تھے۔ اسی طرح عابد قاضی ایڈووکیٹ سے بھی ڈیرے پر ملاقات ہوتی رہی۔ اہلِ قلم، شعراء اور قانون دانوں کی موجودگی ان محفلوں کو ایک الگ رنگ عطا کرتی تھی۔

میرے اپنے کئی احباب بھی ان ملاقاتوں میں شریک رہے۔ سابق صدر اٹک چیمبر آف کامرس طارق محمود میرے ہمراہ ان کی خدمت میں حاضر ہوتے رہے۔ میرے دوست طارق بنگش اور ماما منظور، سبزی فروش سول بازار اٹک، بھی کئی مرتبہ میرے ساتھ وہاں گئے۔ ماما منظور کے ساتھ ان کا ایک خاص بے تکلفانہ انداز تھا۔ انہیں دیکھ کر محبت سے فرمایا کرتے تھے: ’’تم خود فقیر ہو، تمہیں کسی کے پاس آنے کی ضرورت نہیں۔‘‘

بظاہر یہ ایک مختصر سا جملہ تھا، مگر اس میں ان کی مردم شناسی، بے ساختہ مزاح اور فقیر منش لوگوں کی قدر شناسی جھلکتی تھی۔ ان کے نزدیک فقیری کا تعلق مال و دولت یا ظاہری وضع قطع سے نہیں بلکہ دل کی کیفیت اور خلوص سے تھا۔

میرے والد ملک بہرام خان، جو بولیانوال کے سابق کونسلر رہے، اور میرے صاحبزادے ملک امان شجاع کو بھی میرے ساتھ ان کی محفل میں حاضری کا موقع ملا۔ یہ ملاقاتیں میرے لیے زندگی کا قیمتی سرمایہ ہیں۔

ان کے اندازِ گفتگو میں ایک خاص اپنائیت اور احترام پایا جاتا تھا۔ وہ ہر شخص کو ’’صاحب‘‘ کہہ کر مخاطب کرتے تھے۔ سامنے والا کسی بھی طبقے یا مرتبے سے تعلق رکھتا ہو، ان کے لہجے میں احترام نمایاں رہتا۔ کبھی کبھی ایسی بات فرماتے جو بظاہر سادہ ہوتی، لیکن اس میں انسانی مزاج کی گہری سمجھ پوشیدہ ہوتی۔

فرمایا کرتے تھے: ’’ہر شخص اپنے مقصد سے آتا ہے، کوئی تصویر بنانے، کوئی دعا لینے۔‘‘ کوئی لنگر کھانے کے لیے ان کے ڈیرے پر آتا تھا۔ آنے والوں کے مقاصد مختلف ہوتے تھے۔ کوئی عقیدت کے اظہار کے لیے آتا، کوئی دعا کی امید لے کر، کوئی ملاقات کے لیے اور کوئی اس ماحول کو دیکھنے اور یادگار تصویر بنانے کے لیے۔ وہ ہر شخص کو اس کے مقصد کے مطابق قبول کرتے اور کسی کے آنے پر ناگواری کا اظہار نہیں کرتے تھے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے