اوچ شریف (کیو این این ورلڈ / نامہ نگار حبیب خان) شادی بیاہ کی تقریبات میں ون ڈش پالیسی پر عملدرآمد ایک بڑا سوالیہ نشان بن گیا ہے، جبکہ حکومتی احکامات کی خلاف ورزیوں کی شکایات پر شہریوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداروں سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر حکومتی پالیسیوں پر عملدرآمد ہی یقینی نہیں بنایا جا سکتا تو پابندیوں کے اعلانات کا کیا فائدہ؟ مہنگائی کے موجودہ دور میں عام آدمی پہلے ہی مالی مشکلات کا شکار ہے، ایسے میں شادی کی تقریبات کے غیر ضروری اخراجات اس پر مزید بوجھ ڈال رہے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق حکومت کی جانب سے ون ڈش پالیسی متعارف کرانے کا بنیادی مقصد شادی بیاہ کی تقریبات میں غیر ضروری اخراجات، فضول نمودونمائش اور معاشرتی مقابلے کی حوصلہ شکنی کرنا ہے، تاکہ متوسط اور غریب طبقے کو شادی کی تقریبات کے بھاری مالی اخراجات سے بچایا جا سکے۔ تاہم شہری حلقوں کی جانب سے پالیسی پر مؤثر عملدرآمد نہ ہونے کی شکایات سامنے آنے کے بعد اس کے عملی نفاذ اور نگرانی کے نظام پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
شہریوں کے مطابق مہنگائی، بے روزگاری اور روزمرہ اشیائے ضروریہ کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے عام آدمی کی مشکلات میں پہلے ہی اضافہ کر رکھا ہے۔ ایسے حالات میں شادی بیاہ کی تقریبات میں ون ڈش پالیسی کو نظرانداز کرنے کا رجحان ان خاندانوں کے لیے مزید پریشانی کا باعث بن سکتا ہے جو معاشرتی دباؤ کے تحت اپنی استطاعت سے بڑھ کر اخراجات کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔
عوامی حلقوں نے سوال اٹھایا ہے کہ کیا حکومتی احکامات محض اعلانات تک محدود رہیں گے یا ان پر عملی طور پر عملدرآمد بھی یقینی بنایا جائے گا؟ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر پالیسی کی خلاف ورزیوں پر نگرانی اور کارروائی کا مؤثر نظام موجود نہ ہو تو قانون کی یکساں عملداری کا تصور بھی متاثر ہوتا ہے۔
شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ شادی ہالز، مارکیز اور دیگر مقامات پر ہونے والی تقریبات کی باقاعدہ نگرانی کی جائے، ون ڈش پالیسی کی خلاف ورزی سے متعلق موصول ہونے والی شکایات کی فوری جانچ پڑتال کی جائے اور خلاف ورزی ثابت ہونے پر ذمہ داران کے خلاف بلاامتیاز قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
انہوں نے اعلیٰ حکام اور ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ ون ڈش پالیسی پر عملدرآمد کے لیے واضح اور مؤثر اقدامات کیے جائیں، متعلقہ افسران کی ذمہ داریاں متعین کی جائیں اور پالیسی کے نفاذ کی صورتِ حال کو یقینی بنایا جائے، تاکہ حکومتی احکامات کی پاسداری ہو اور غریب و متوسط طبقے کو شادی کی تقریبات کے غیر ضروری مالی دباؤ سے تحفظ مل سکے۔