سوال یہ ہے کہ کیا ڈاکٹر بننے کا خواب صرف امیر خاندانوں کے بچوں کے لیے رہ گیا ہے؟

میڈیکل کی تعلیم امیروں کے لیے، غریب کے بچوں کا مستقبل کہاں؟
تحریر: چوہدری احمد، ڈیرہ غازی خان
تعلیم کسی بھی قوم کی ترقی کی بنیاد ہوتی ہے، جبکہ صحت مند معاشرہ ایک مضبوط اور خوشحال پاکستان کی ضمانت ہے۔ لیکن جب تعلیم، خصوصاً میڈیکل کی تعلیم، عام آدمی کی پہنچ سے دور ہو جائے تو ایک اہم سوال جنم لیتا ہے کہ غریب کا ذہین اور قابل بچہ اپنے خواب کیسے پورے کرے؟

ہمارے معاشرے میں ہر سال ہزاروں طلبہ میٹرک اور ایف ایس سی کے امتحانات میں نمایاں کامیابی حاصل کرتے ہیں۔ ان میں بہت سے بچے ڈاکٹر بن کر انسانیت کی خدمت کرنا چاہتے ہیں۔ کوئی اپنے بیمار والدین کا علاج کرنا چاہتا ہے، کوئی اپنے علاقے کے غریب لوگوں کے لیے مسیحا بننے کا خواہش مند ہوتا ہے، جبکہ کوئی اپنے خاندان کو غربت سے نکالنے کا خواب دیکھتا ہے۔

لیکن جب یہی بچے میڈیکل کالجوں میں داخلے کے مرحلے پر پہنچتے ہیں تو قابلیت اور محنت کے باوجود بھاری فیسیں ان کی راہ میں رکاوٹ بن جاتی ہیں، جنہیں برداشت کرنا ہر خاندان کے بس کی بات نہیں۔

سوال یہ ہے کہ کیا ڈاکٹر بننے کا خواب صرف امیر خاندانوں کے بچوں کے لیے رہ گیا ہے؟

ایک غریب باپ ساری زندگی محنت مزدوری کرتا ہے، اپنی ضروریات قربان کرکے بچوں کو تعلیم دلاتا ہے اور اس امید پر زندگی گزارتا ہے کہ اس کی اولاد پڑھ لکھ کر خاندان کا سہارا بنے گی۔

جب اس کا بچہ اچھے نمبروں سے ایف ایس سی پاس کرکے میڈیکل کالج میں داخلے کا اہل بنتا ہے تو والدین کی خوشی دیدنی ہوتی ہے۔ لیکن داخلے کے بعد لاکھوں روپے سالانہ فیس کی شرط سامنے آ جائے تو یہی خوشی پریشانی میں بدل جاتی ہے۔

ایک طرف بچے کی قابلیت، محنت اور ڈاکٹر بننے کی خواہش ہوتی ہے، دوسری طرف والدین کی محدود آمدنی، مہنگائی، بجلی کے بل، گھر کے اخراجات اور چھوٹے بہن بھائیوں کی تعلیم۔ ایسے میں والدین کیا کریں؟ قرض لیں، زمین فروخت کریں یا اپنے بچے کے خوابوں سے دست بردار ہو جائیں؟

کیا ہمارے نظامِ تعلیم میں غریب کے ذہین بچے کے لیے آگے بڑھنے کے راستے محض مالی وسائل کی کمی کے باعث محدود ہو جانے چاہییں؟

ملک میں نجی میڈیکل کالجز کی موجودگی اپنی جگہ، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ میڈیکل کی تعلیم عام شہری کی پہنچ میں کیسے لائی جائے؟

اگر ایک خاندان اپنے بچے کو ڈاکٹر بنانے کے لیے بھاری قرض لیتا ہے یا زندگی بھر کی جمع پونجی خرچ کر دیتا ہے تو اس کے مالی اثرات بھی معمولی نہیں ہوتے۔ یہ بھی درست ہے کہ ہر ڈاکٹر کو فیسوں کی بنیاد پر نہیں پرکھا جا سکتا۔ بہت سے ڈاکٹر محدود وسائل کے باوجود انسانیت کی خدمت کرتے، غریب مریضوں کا مفت علاج کرتے اور اپنی ذمہ داریاں دیانت داری سے نبھاتے ہیں۔

تاہم یہ سوال اہم ہے کہ جب تعلیم کے اخراجات حد سے زیادہ بڑھ جائیں تو کیا اس کا دباؤ مستقبل میں ڈاکٹر اور مریض کے تعلق پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے؟ ضروری نہیں کہ ہر ڈاکٹر مالی دباؤ کے باعث اپنے رویے میں تبدیلی لائے، لیکن ایسا نظام ضرور ہونا چاہیے جس میں مالی مجبوریوں کے بجائے قابلیت، خدمت اور پیشہ ورانہ اخلاقیات کو اہمیت حاصل ہو۔

ڈاکٹر کا اصل مقام مریض کی خدمت میں ہے، جبکہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ ڈاکٹر بننے کے راستے کو عام آدمی کے لیے بھی ممکن بنائے۔

میری نظر میں اس مسئلے کا حل صرف شکایت کرنے میں نہیں، بلکہ عملی اقدامات میں ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ ملک بھر میں ضرورت کے مطابق سرکاری میڈیکل کالجز کی تعداد بڑھائے، نئی سرکاری میڈیکل یونیورسٹیاں قائم کرے اور موجودہ اداروں میں تدریسی سہولتوں، جدید لیبارٹریوں، ہسپتالوں اور طبی تربیت کے معیار کو بہتر بنائے۔

سرکاری میڈیکل کالجز کی فیسیں مناسب رکھی جائیں تاکہ ذہین اور مستحق طلبہ محض مالی وسائل کی کمی کی وجہ سے تعلیم سے محروم نہ رہیں۔ غریب طلبہ کے لیے میرٹ پر وظائف، فیسوں میں رعایت اور مالی معاونت کا شفاف نظام بنایا جائے، جبکہ نجی میڈیکل کالجز کی فیسوں اور دیگر اخراجات کی مؤثر نگرانی بھی کی جائے تاکہ طلبہ اور والدین پر غیر ضروری مالی بوجھ نہ پڑے۔

یہ اقدامات نہ صرف تعلیم کے شعبے کی بہتری بلکہ ملک کے صحت کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے بھی ضروری ہیں۔

جب ملک میں معیاری طبی تعلیم کے مواقع بڑھیں گے اور زیادہ قابل ڈاکٹر تیار ہوں گے تو شہری اور دیہی علاقوں میں ڈاکٹروں کی دستیابی بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔ مریضوں کو علاج کے لیے دور دراز شہروں کا سفر کم کرنا پڑ سکتا ہے اور سرکاری ہسپتالوں میں طبی عملے کی کمی دور کرنے کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔

البتہ صرف ڈاکٹروں کی تعداد بڑھانا کافی نہیں۔ ان کی مناسب تربیت، میرٹ پر بھرتی، دیہی علاقوں میں تعیناتی، ہسپتالوں میں ضروری سہولتوں کی فراہمی اور پیشہ ورانہ نگرانی بھی ضروری ہے۔

اسی طرح طبی خدمات کے اخراجات کو عام شہری کی پہنچ میں رکھنے کے لیے مؤثر ضابطے، شفاف نظام اور عوامی شکایات کے ازالے کا طریقہ ہونا چاہیے۔ مقصد ڈاکٹر کی محنت کی قدر کم کرنا نہیں، بلکہ ایسا نظام قائم کرنا ہے جس میں ڈاکٹر کو مناسب معاوضہ ملے اور غریب مریض علاج کے لیے اپنی جمع پونجی خرچ کرنے پر مجبور نہ ہو۔

ڈیرہ غازی خان اور جنوبی پنجاب کے دور دراز علاقوں میں معیاری تعلیم اور صحت کی سہولتوں کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ اگر ان علاقوں کے ذہین بچوں کو اپنے ہی خطے میں مناسب تعلیمی مواقع میسر ہوں تو انہیں دوسرے شہروں میں رہائش، سفر اور دیگر اخراجات پر بھاری رقم خرچ کرنے کی ضرورت کم ہو سکتی ہے۔

حکومت کو چاہیے کہ جنوبی پنجاب میں طبی تعلیم کے اداروں کو مضبوط کرے، سرکاری ہسپتالوں کی استعداد بڑھائے اور غریب خاندانوں کے بچوں کے لیے اعلیٰ تعلیم کے دروازے کھولے۔

یارو کھوسہ، کوٹ مبارک اور ڈیرہ غازی خان کے گردونواح کے دیہی علاقوں سے تعلق رکھنے والے طلبہ بھی اسی ملک کے شہری ہیں۔ ان کے خواب، صلاحیتیں اور مستقبل بھی اتنے ہی اہم ہیں جتنے بڑے شہروں کے بچوں کے۔

قابلیت کا تعلق دولت سے نہیں، محنت اور صلاحیت سے ہوتا ہے۔

کیا میڈیکل کی تعلیم صرف صاحبِ استطاعت خاندانوں تک محدود رہنی چاہیے؟ کیا غریب کا ذہین بچہ صرف اس لیے ڈاکٹر بننے کا خواب چھوڑ دے کہ اس کے والدین بھاری فیس ادا نہیں کر سکتے؟ کیا حکومت کی ذمہ داری نہیں کہ معیاری سرکاری میڈیکل کالجز کی تعداد بڑھائے، فیسیں مناسب رکھے اور مستحق طلبہ کی مالی مدد کرے؟ کیا صحت کی سہولتوں کو بہتر بنانے کے لیے ڈاکٹروں کی تعداد، تربیت اور دیہی علاقوں میں دستیابی پر خصوصی توجہ نہیں دینی چاہیے؟

یہ سوالات کسی ایک ادارے یا طبقے کے خلاف نہیں، بلکہ ایک بہتر تعلیمی اور صحت کے نظام کے حق میں ہیں۔

میری گزارش ہے کہ حکومت، متعلقہ وزارتیں، تعلیمی ادارے اور پالیسی ساز اس مسئلے کو سنجیدگی سے دیکھیں۔ تعلیم کو صرف مالی استطاعت سے مشروط کرنے کے بجائے قابلیت، میرٹ اور عوامی مفاد کو ترجیح دی جائے۔

یاد رکھیے! آج اگر کسی غریب بچے کو مالی وسائل کی کمی کی وجہ سے ڈاکٹر بننے کا موقع نہیں ملتا تو ممکن ہے کل وہی بچہ کسی غریب مریض کے لیے مسیحا ثابت ہوتا۔

قومیں صرف عمارتیں بنانے سے ترقی نہیں کرتیں، بلکہ انسانوں کو تعلیم دے کر، ان کی صلاحیتوں کو نکھار کر اور انہیں صحت مند زندگی کے مواقع فراہم کرکے آگے بڑھتی ہیں۔

حکومت سے مطالبہ ہے کہ سرکاری میڈیکل کالجز اور یونیورسٹیوں کی تعداد میں ضرورت کے مطابق اضافہ کیا جائے، فیسیں مناسب رکھی جائیں، مستحق طلبہ کو وظائف دیے جائیں اور معیاری علاج عام شہری کی پہنچ میں لایا جائے، تاکہ غریب کا بچہ بھی ڈاکٹر بن سکے، غریب کا مریض بھی علاج کرا سکے اور پاکستان میں تعلیم و صحت چند لوگوں کی آسائش نہیں، بلکہ ہر شہری کا بنیادی حق بن سکیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے