خیبر (کیو این این ورلڈ / نامہ نگار نورحلیم آفریدی )ایریا ڈیولپمنٹ ری پریزینٹیٹو کونسل (اے آر ڈی سی) فاٹا کے رکن حاجی شیرین آفریدی نے کہا ہے کہ مستقبل میں اے آر ڈی سی کو ایک بااختیار اور منتخب کونسل میں تبدیل کیا جائے گا، جس کا بنیادی مقصد قبائلی اضلاع میں عوامی شمولیت کے ذریعے ترقیاتی عمل کو مؤثر بنانا، بنیادی مسائل حل کرنا اور مقامی سطح پر انتظامی امور میں بہتری لانا ہے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار باڑہ پریس کلب کے دورے کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔
اس موقع پر باڑہ سیاسی اتحاد کا ایک وفد صدر ہاشم خان آفریدی کی سربراہی میں ان کے ہمراہ موجود تھا، جس میں مراد ساقی، مولانا اسد اللہ، ملک عطااللہ، حاجی ظاہر شاہ، حاجی اصغر خان، ڈاکٹر شیر شاہ، صدیق چراغ اور دیگر کارکنان شامل تھے۔ وفد نے حاجی شیرین آفریدی کے مؤقف اور علاقائی ترقی کے لیے ان کی کوششوں کی مکمل حمایت کا اعلان کرتے ہوئے علاقے کے اجتماعی مسائل کے حل کے لیے مشترکہ جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
حاجی شیرین آفریدی نے واضح کیا کہ اے آر ڈی سی کونسل نہ تو ایف سی آر (FCR) کا متبادل ہے اور نہ ہی کسی الگ صوبے کے قیام کا منصوبہ ہے، لہٰذا اسے منفی نظر سے دیکھنے کے بجائے علاقائی ترقی، امن و امان کے قیام اور محروم علاقوں کو قومی دھارے میں شامل کرنے کے لیے مثبت کردار ادا کرنے کا موقع دیا جانا چاہیے۔
انہوں نے تیراہ متاثرین کی باعزت، محفوظ اور پائیدار واپسی کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ان کی واپسی کے لیے ایک جامع منصوبہ بندی کی جائے، جس میں گھروں کی بحالی، املاک کے نقصانات کا ازالہ، تعلیمی و صحتی سہولیات اور بنیادی ڈھانچے کی تعمیر شامل ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ متاثرین کو ایسا محفوظ ماحول فراہم کیا جائے جہاں وہ عزت اور بنیادی سہولیات کے ساتھ دوبارہ اپنی زندگی شروع کر سکیں، اور اس کے لیے مقامی عمائدین سے مشاورت بھی یقینی بنائی جائے۔
سابقہ پاکستان تحریک انصاف کے دور حکومت میں شروع کیے گئے ترقیاتی منصوبوں پر بات کرتے ہوئے انہوں نے مطالبہ کیا کہ عوامی مفاد کی اسکیموں کو بلا تعطل جاری رکھا جائے۔ بالخصوص سڑکوں، پلوں، اسکولوں، بنیادی مراکز صحت، آب نوشی اور بجلی سے متعلق منصوبوں کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا جائے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ جن ترقیاتی اسکیموں میں بدعنوانی، ناقص منصوبہ بندی یا فنڈز کے غلط استعمال کی شکایات سامنے آئی ہیں، ان کا شفاف اور غیر جانب دار آڈٹ کرایا جائے۔ آڈٹ کے عمل میں مقامی نمائندوں اور ماہرین کو شامل کیا جائے اور بے ضابطگیاں ثابت ہونے کی صورت میں ذمہ داروں کے خلاف بلاامتیاز قانونی کارروائی کی جائے۔
حاجی شیرین آفریدی نے زور دیا کہ تعلیم، صحت، روزگار اور نوجوانوں کے لیے ہنر مندی کے پروگراموں کو ترجیح دی جائے، کیونکہ نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں سے جوڑے بغیر علاقے میں پائیدار ترقی ممکن نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ضم شدہ اضلاع کے انتظامی امور کو بہتر بنانے اور عوامی نمائندگی کو مؤثر بنانے کے لیے ریاستی سطح پر لائحہ عمل پر کام جاری ہے، اور مسائل کا حل صرف اعلانات سے نہیں بلکہ مستقل پالیسی، مناسب فنڈز اور شفاف نگرانی سے ہی ممکن ہوگا۔