گھوٹکی: رونتی کچے میں درختوں کی غیر قانونی کٹائی اور لکڑی کی چوری کی اطلاعات

گھوٹکی (کیو این این / نامہ نگار مشتاق علی لغاری): ڈسٹرکٹ گھوٹکی کے رونتی کچے کے علاقے میں جنگلات کے درختوں کی مبینہ غیر قانونی کٹائی اور لکڑی کی چوری کی سنگین اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ مقامی ذرائع کے مطابق ان جنگلات سے کاٹی گئی لکڑی ٹرالی رکشوں کے ذریعے رونتی اور اوباڑو کی طرف منتقل کی جا رہی ہے، جس پر محکمہ جنگلات کے متعلقہ افسران کی نگرانی اور کارکردگی پر سنگین سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔

علاقہ مکینوں نے بتایا کہ رونتی کے کچے علاقے میں جنگلات کے قیمتی درختوں کو رات کے اندھیرے میں کاٹا جا رہا ہے اور پھر انہیں ٹرالی رکشوں پر لاد کر قریبی شہروں رونتی اور اوباڑو میں سپلائی کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر یہ اطلاعات درست ثابت ہوئیں تو نہ صرف قدرتی ماحول کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا بلکہ جنگلات کے وسائل بھی تباہ ہو جائیں گے، جو علاقے کے ماحولیاتی توازن کے لیے انتہائی اہم ہیں۔

شہریوں نے اس معاملے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر گھوٹکی اور محکمہ جنگلات کے اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ معاملے کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کروائی جائیں، ذمہ دار افسران اور ملوث افراد کی نشاندہی کی جائے اور ان کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے

۔مقامی لوگوں کا مزید کہنا ہے کہ جنگلات کے تحفظ کے لیے محکمہ جنگلات کو مؤثر اور فوری اقدامات اٹھانے چاہئیں تاکہ مستقبل میں ایسی مبینہ سرگرمیوں کا خاتمہ ہو سکے۔ انہوں نے متعلقہ حکام سے اپیل کی ہے کہ اس سنگین معاملے کو ہلکے میں نہ لیا جائے کیونکہ جنگلات کی تباہی پورے علاقے کے ماحول، جنگلی حیات اور مقامی آبادی کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ ضلعی انتظامیہ اور محکمہ جنگلات ان اطلاعات پر کیا کارروائی کرتے ہیں اور کیا واقعی ذمہ داروں کے خلاف کوئی ٹھوس قدم اٹھایا جاتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے