واشنگٹن(کیو این این ورلڈ)امریکا میں وسط مدتی انتخابات میں صرف 12 روز باقی رہ گئے ہیں، جہاں ایران کے ساتھ جاری جنگ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے ایک بڑا سیاسی چیلنج اور شدید دباؤ کا باعث بنی ہوئی ہے۔ جنگ کی عدم مقبولیت اور اس سے متعلق خبروں کی مسلسل کوریج نے امریکی سیاسی منظرنامے کو گرم کر دیا ہے، جبکہ دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں سکیورٹی خدشات اور عالمی سطح پر اہم سفارتی پیش رفت سامنے آ رہی ہیں۔
نیویارک ٹائمز اور ایکسیوس کی رپورٹس کے مطابق امریکی اور اسرائیلی افواج نے انتخابات کے دن کے بعد ایران پر دوبارہ حملے کرنے کے لیے مخصوص اور تفصیلی منصوبے تیار کیے ہیں۔ ان ممکنہ حملوں کے اہداف میں ایران کا توانائی کا بنیادی ڈھانچہ، جوہری تنصیبات اور میزائل و ڈرونز کے ذخائر شامل ہو سکتے ہیں۔ تاہم رپورٹس میں واضح کیا گیا ہے کہ ان منصوبوں کا مطلب لازمی حملہ نہیں بلکہ یہ ممکنہ تیاریوں کا حصہ ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ میں بگڑتی ہوئی سکیورٹی صورتِ حال اور ایران کے حمایت یافتہ حوثی جنگجوؤں کے بڑھتے ہوئے حملوں کے پیشِ نظر امریکی محکمہ خارجہ نے سعودی عرب میں تعینات غیر ہنگامی امریکی سرکاری ملازمین کو فوری طور پر ملک چھوڑنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔ اس کے ساتھ ہی امریکی فوج بھی خطے میں موجود اپنی حساس تنصیبات سے اہلکاروں کی تعداد کو خاموشی سے کم کر رہی ہے۔
عالمگیر سفارتی محاذ پر ایک اور اہم پیش رفت میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے امریکا، روس اور یوکرین کے درمیان سہ فریقی امن مذاکرات کی بحالی پر اصولی اتفاق کیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے ایلچی اسٹیو وٹکوف سے گفتگو کے دوران سامنے آنے والی اس آمادگی سے امریکی حکام کو امید پیدا ہوئی ہے کہ معاشی اور سفارتی اقدامات کے بعد پیوٹن مذاکرات میں لچک دکھا سکتے ہیں۔
ان تمام پیش رفتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران جنگ کے اثرات اب محض دوطرفہ کشیدگی تک محدود نہیں رہے بلکہ مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی سکیورٹی، روس یوکرین امن عمل اور واشنگٹن کی تمام عالمی سفارت کاری پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔ امریکی وسط مدتی انتخابات سے قبل یہ تمام تر صورتِ حال صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی داخلی اور خارجی پالیسیوں کے لیے ایک کڑا امتحان بن چکی ہے۔