دنیا بھر میں لاکھوں ویب سائٹس کو متاثر کرنے والی سائبر سکیورٹی کی ایک سنگین خامی سامنے آنے کے بعد اداروں اور حکومتوں نے ہنگامی بنیادوں پر حفاظتی اقدامات شروع کر دیے ہیں۔ یہ خامی ویب سائٹس کی تیاری اور انہیں چلانے کے لیے استعمال ہونے والی پروگرامنگ لینگویج ’پی ایچ پی‘ (PHP) میں پائی گئی، جو ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے موجود تھی، تاہم اس کا پتا نہیں چل سکا تھا۔
برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق اس خامی کا انکشاف مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے ہوا، جس کے بعد اس کی تفصیلات منگل کو منظرعام پر آگئیں۔ اس انکشاف کے بعد مختلف ممالک کی حکومتوں، ٹیکنالوجی کمپنیوں اور سائبر سکیورٹی کے اداروں میں تشویش پیدا ہوگئی، جبکہ ممکنہ خطرات سے بچنے کے لیے متعدد ویب سائٹس کو عارضی طور پر بند کر دیا گیا۔
اندازہ ہے کہ اس سکیورٹی خامی سے دنیا بھر کی تقریباً تین کروڑ ویب سائٹس متاثر ہو سکتی ہیں۔ متعلقہ ادارے اس خامی کو دور کرنے کے لیے سافٹ ویئر کی حفاظتی اپ ڈیٹس اور پیچز انسٹال کر رہے ہیں، تاہم خطرے کی تفصیلات سامنے آنے کے بعد ہیکنگ کی لاکھوں کوششوں کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔
سائبر سکیورٹی ماہرین کے مطابق پی ایچ پی انٹرنیٹ کی دنیا میں وسیع پیمانے پر استعمال ہونے والی پروگرامنگ لینگویج ہے۔ بہت سی ویب سائٹس اور آن لائن پلیٹ فارمز اسی ٹیکنالوجی کی مدد سے کام کرتے ہیں، اس لیے اس میں موجود کسی سنگین خامی کے اثرات بڑی تعداد میں ویب سائٹس تک پہنچ سکتے ہیں۔
بی بی سی کے بزنس رپورٹر عثمان چیّا کے مطابق پی ایچ پی ایسی پروگرامنگ لینگویج ہے جس سے عام صارفین روزانہ بالواسطہ طور پر واسطہ رکھتے ہیں، اگرچہ بیشتر افراد اس کے نام سے واقف نہیں ہوتے۔ ویب سائٹس کے پسِ پردہ نظام کو چلانے میں اس کا اہم کردار ہے، اسی لیے اس میں سامنے آنے والی سکیورٹی خامی کو معمولی مسئلہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔
خامیاں سامنے آنے کے بعد متعلقہ اداروں نے متاثرہ سافٹ ویئر کو محفوظ بنانے کے لیے حفاظتی پیچز کی تنصیب شروع کر دی ہے۔ تاہم، اس عمل کے دوران متعدد پلیٹ فارمز نے ممکنہ سائبر حملوں سے بچنے کے لیے اپنی ویب سائٹس عارضی طور پر آف لائن کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس معاملے میں فوری طور پر حفاظتی اپ ڈیٹس کی تنصیب ضروری ہے، کیونکہ خامی کی تفصیلات عام ہونے کے بعد حملہ آور ان سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ لاکھوں ہیکنگ کوششوں کی اطلاعات نے اس خطرے کی سنگینی اور ویب سائٹس کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات کی اہمیت کو مزید اجاگر کر دیا ہے۔
یہ واقعہ اس بات کی بھی نشاندہی کرتا ہے کہ مصنوعی ذہانت سائبر سکیورٹی کے شعبے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ اس کی مدد سے طویل عرصے سے موجود سافٹ ویئر کی خامیوں کا سراغ لگایا جا سکتا ہے، تاہم ایسی معلومات منظرعام پر آنے کے بعد ان کا غلط استعمال روکنا بھی ایک بڑا چیلنج بن جاتا ہے۔
ماخذ: بی بی سی نیوز — فراہم کردہ خبر اور سائبر سکیورٹی سے متعلق رپورٹ۔ مزید پس منظر کے لیے بی بی سی کی متعلقہ رپورٹ بھی دیکھی جا سکتی ہے۔
https://bbcinsight.pages.dev/news/articles/cmly0lg3w5x2o?utm_source=chatgpt.com