ڈیرہ غازی خان میں انسدادِ سموگ کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں فضائی آلودگی پر قابو پانے، فصلوں کی باقیات جلانے کی روک تھام، دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کی چیکنگ اور صنعتی یونٹس کی نگرانی مؤثر بنانے کے لیے متعلقہ محکموں کو ہدایات جاری کی گئیں

ڈی جی خان(کیو این این ورلڈ/ڈویژنل بیوروچیف مرید حسین ٹالپور) انسدادِ سموگ کمیٹی کا اجلاس، کیا عملی اقدامات ہوں گے؟

ڈیرہ غازی خان میں انسدادِ سموگ کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں فضائی آلودگی پر قابو پانے، فصلوں کی باقیات جلانے کی روک تھام، دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کی چیکنگ اور صنعتی یونٹس کی نگرانی مؤثر بنانے کے لیے متعلقہ محکموں کو ہدایات جاری کی گئیں۔ تاہم شہر اور گردونواح میں غیر قانونی بھٹوں، زگ زیگ ٹیکنالوجی کے بغیر چلنے والے بھٹوں اور پرالی جلانے کے حوالے سے شہریوں کے تحفظات کے باعث یہ سوال اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ اجلاس میں جاری ہونے والی ہدایات پر عملی طور پر کتنا عملدرآمد ہو سکے گا۔

ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر انفورسمنٹ احمد نوید بلوچ کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں متعلقہ محکموں کے افسران نے شرکت کی۔ اسسٹنٹ ڈائریکٹر محکمہ تحفظ ماحولیات علی رضا نے شرکاء کو انسدادِ سموگ اقدامات اور ماحولیاتی آلودگی کی روک تھام کے حوالے سے بریفنگ دی۔ اجلاس میں حکومت پنجاب کی انسدادِ سموگ ہدایات پر عملدرآمد کا جائزہ لیا گیا اور متعلقہ اداروں کو اپنی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں ادا کرنے کی ہدایت کی گئی۔

اجلاس میں فصلوں کی باقیات جلانے والوں کے خلاف کارروائی، دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کی مؤثر چیکنگ اور ان کے فٹنس سرٹیفکیٹس کی جانچ پڑتال یقینی بنانے پر زور دیا گیا۔ صنعتی یونٹس سے خارج ہونے والے دھوئیں کی نگرانی بہتر بنانے اور ماحولیاتی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کی ہدایات بھی جاری کی گئیں۔

ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر انفورسمنٹ احمد نوید بلوچ نے کہا کہ سموگ کی روک تھام کے لیے تمام متعلقہ محکمے متحرک رہیں اور حکومتی ہدایات پر عملدرآمد یقینی بنائیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ماحولیاتی تحفظ کے معاملے میں غفلت برداشت نہیں کی جائے گی اور شہریوں کو صاف ماحول فراہم کرنے کے لیے مشترکہ اقدامات ناگزیر ہیں۔

دوسری جانب شہری حلقوں کی جانب سے ڈیرہ غازی خان اور گردونواح میں غیر قانونی بھٹوں اور زگ زیگ ٹیکنالوجی کے بغیر چلنے والے بھٹوں کے خلاف مؤثر کارروائی نہ ہونے پر تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ شہریوں کے مطابق بعض علاقوں میں فصلوں کی باقیات، خصوصاً پرالی جلانے سے بھی دھوئیں میں اضافہ ہوتا ہے، جس کے باعث صبح کے اوقات میں فضا آلودہ ہونے اور سانس لینے میں دشواری کی شکایات سامنے آتی ہیں۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ ضلعی انتظامیہ اور محکمہ تحفظ ماحولیات کی ذمہ داری ہے کہ وہ ماحولیاتی قوانین پر عملدرآمد یقینی بنائیں، غیر قانونی بھٹوں کی نگرانی کریں اور زگ زیگ ٹیکنالوجی کے بغیر چلنے والے بھٹوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کریں۔ اسی طرح پرالی جلانے کی روک تھام کے لیے مؤثر نگرانی اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف اقدامات بھی ضروری ہیں۔

شہری حلقوں نے الزام عائد کیا ہے کہ متعلقہ اداروں کی سرگرمیاں بعض اوقات اعلانات اور فوٹو سیشن تک محدود دکھائی دیتی ہیں، جبکہ زمینی سطح پر آلودگی کی روک تھام کے لیے مستقل اور مؤثر کارروائی کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو سموگ اور فضائی آلودگی شہریوں کی صحت اور معمولاتِ زندگی کو مزید متاثر کر سکتی ہے۔

شہریوں نے ڈپٹی کمشنر ڈیرہ غازی خان، محکمہ تحفظ ماحولیات اور دیگر متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ غیر قانونی بھٹوں کے خلاف کارروائی کی جائے، زگ زیگ ٹیکنالوجی کے قواعد پر عملدرآمد کرایا جائے اور پرالی جلانے کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔

انسدادِ سموگ کمیٹی کے اجلاس میں جاری ہونے والی ہدایات اپنی جگہ اہم ہیں، تاہم اصل امتحان ان پر عملدرآمد، مسلسل نگرانی اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف عملی کارروائی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ متعلقہ ادارے ان ہدایات کو کس حد تک عملی شکل دیتے ہیں اور ڈیرہ غازی خان کے شہریوں کو آلودہ فضا اور سموگ سے ریلیف مل پاتا ہے یا نہیں۔

اگر ضلعی انتظامیہ یا محکمہ تحفظ ماحولیات اس معاملے پر اپنا مؤقف یا وضاحت دینا چاہیں تو کیو این این ورلڈ اسے پوری ذمہ داری کے ساتھ شائع کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے