پشاور(کیو این این ورلڈ)گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی زیرِ صدارت بینک آف خیبر سے متعلق ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں مشیر خزانہ طارق محمود پاشا، اسپیشل سیکرٹری خزانہ خالد اعوان، مینجنگ ڈائریکٹر (ایم ڈی) بینک آف خیبر اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران بینک کی مجموعی کارکردگی، کامیابیوں، درپیش مسائل، مستقبل کے اہداف اور ادارہ جاتی اصلاحات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
ایم ڈی بینک آف خیبر نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ مالی سال 2024-25 بینک کے لیے بہتر کارکردگی کا حامل رہا ہے۔ اس وقت ملک بھر میں بینک کی 256 برانچز کام کر رہی ہیں جن میں سے 170 برانچز کا تعلق خیبرپختونخوا سے ہے۔ بریفنگ میں یہ بھی آگاہ کیا گیا کہ بینک کو کامیابی کے ساتھ اسلامی اصولوں کے مطابق اسلامی بینکاری کے نظام پر منتقل کر دیا گیا ہے، اور ادارے کی تنظیمِ نو، اصلاحات اور انتظامی تبدیلیوں کے لیے مؤثر اقدامات جاری ہیں۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ بینک کا "روڈ ٹو ٹرانسفارمیشن” پروگرام تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ صارفین کو جدید سہولیات فراہم کرنے کی خاطر ڈیجیٹائزیشن اور موبائل ایپ کی اپ گریڈیشن پر کام کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ، بینک آف خیبر کی کرنسی ایکسچینج کمپنی پرائیویٹ لمیٹڈ کو جلد فعال کرنے، بیرونِ ملک سے ترسیلاتِ زر کو بہتر بنانے کے لیے ریمیٹنس کارڈ متعارف کرانے کے اقدامات جاری ہیں، جبکہ پاکستان پوسٹ کے ساتھ مفاہمتی یادداشت پر بھی دستخط ہو چکے ہیں۔
حکام نے بتایا کہ بینک آف خیبر وفاقی حکومت کی دو اور صوبائی حکومت کی چار قرضہ اسکیموں کے ذریعے عوام کو مالی معاونت فراہم کر رہا ہے۔ ان پروگراموں میں احساس نوجوان، احساس ہنر، احساس اپنا گھر، وزیراعظم اپنا گھر اور زرعی قرضہ پروگرام شامل ہیں۔ زراعت اور ہاؤسنگ کے شعبوں میں جدید مالیاتی سہولیات فراہم کرنے کے لیے بھی خصوصی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
گورنر خیبرپختونخوا نے اجلاس کے دوران بورڈ آف ڈائریکٹرز کے قانونی مسائل اور انتظامی چیلنجز پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے ہدایت کی کہ محکمہ قانون سے مشاورت کرکے تمام زیرِ التوا معاملات جلد از جلد حل کیے جائیں اور اس حوالے سے پیش رفت کی رپورٹ نومبر کے پہلے ہفتے میں پیش کی جائے۔
گورنر نے عوام کو متبادل توانائی کی فراہمی کے لیے بینک کو ایک جامع سولر فنانسنگ اسکیم تیار کرنے کی بھی ہدایت کی۔ اس کے علاوہ اجلاس میں پولیس شہداء کے بچوں کے تعلیمی اخراجات پورے کرنے کے لیے بینک آف خیبر میں خصوصی اکاؤنٹ کھولنے کی تجویز پر بھی غور کیا گیا۔
آخر میں گورنر فیصل کریم کنڈی نے زور دیا کہ زراعت، ہاؤسنگ اور دیگر شعبوں کی قرضہ اسکیموں کے بارے میں عوامی آگاہی بڑھائی جائے تاکہ عام شہری ان سہولیات سے بھرپور استفادہ کر سکیں۔