ننکانہ صاحب (کیو این این ورلڈ/ بیورو چیف احسان اللہ ایاز) پاکستان کے محقق اور کیمسٹری کے ماہر ڈاکٹر آغا ذیشان مرزا نے علمی و تحقیقی میدان میں نمایاں کامیابی حاصل کرتے ہوئے مسلسل تیسری مرتبہ دنیا کے ٹاپ 2 فیصد سائنس دانوں کی فہرست میں جگہ بنا لی۔ یہ اعزاز ان کی تحقیقی خدمات، سائنسی سرگرمیوں اور بین الاقوامی سطح پر علمی اثرات کا اعتراف ہے۔
ڈاکٹر آغا ذیشان مرزا، آغا رئیس مرزا کے صاحبزادے ہیں۔ ان کی اس کامیابی کو اہلِ خانہ، عزیز و اقارب اور حلقۂ احباب کے لیے باعثِ مسرت و افتخار قرار دیا جا رہا ہے۔ عالمی سطح پر مرتب کی جانے والی اس فہرست میں مسلسل تین مرتبہ شمولیت ان کی علمی و تحقیقی سرگرمیوں کے تسلسل اور سائنسی میدان میں خدمات کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔
دنیا کے ٹاپ 2 فیصد سائنس دانوں کی فہرست معروف سائنسی اور تحقیقی اشاریوں کی بنیاد پر مرتب کی جاتی ہے، جس میں محققین کی تحقیقی اشاعتوں، علمی اثرات اور سائنسی حوالہ جات سمیت مختلف پیمانوں کو مدِنظر رکھا جاتا ہے۔ اس فہرست میں شمولیت کو محققین کی بین الاقوامی علمی شناخت اور ان کی تحقیق کے اثرات کا جائزہ لینے کے اہم ذرائع میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس حوالے سے ایچ انڈیکس (H-index) اور دیگر بائبلیومیٹرک اشاریے بھی اہمیت رکھتے ہیں۔
ڈاکٹر آغا ذیشان مرزا نے اپنی ابتدائی اعلیٰ تعلیم ڈی جے سندھ گورنمنٹ سائنس کالج کراچی سے حاصل کی، جبکہ 2003 میں جامعہ کراچی سے کیمسٹری میں ایم ایس سی کی ڈگری مکمل کی۔ بعد ازاں انہوں نے 2011 میں جامعہ کراچی ہی سے آرگینک کیمسٹری میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ دورانِ تحقیق انہیں امریکہ کی معروف پرڈیو یونیورسٹی (Purdue University) میں بطور وزٹنگ ریسرچ اسکالر کام کرنے کا موقع بھی ملا، جہاں انہوں نے تحقیقی سرگرمیوں میں حصہ لیا۔
ڈاکٹر آغا ذیشان مرزا کی تحقیق کا بنیادی میدان حیاتیاتی اہمیت کے حامل مرکبات کی تیاری (Synthesis) ہے۔ ان کی حالیہ تحقیقی سرگرمیوں میں بائی فنکشنل ہائبرڈ مرکبات کی ڈرگ ڈیزائننگ شامل ہے، جن کی تیاری اور مطالعے کا مقصد کینسر اور ذیابیطس جیسے امراض کے علاج کے لیے ممکنہ طور پر مؤثر مرکبات کی شناخت اور تیاری ہے۔ اس نوعیت کی تحقیق مستقبل میں ادویات کی تیاری اور علاج کے نئے امکانات تلاش کرنے میں معاون ثابت ہو سکتی ہے، تاہم کسی مرکب کی عملی طبی افادیت کا تعین مزید سائنسی اور طبی تحقیق سے ہوتا ہے۔
دستیاب معلومات کے مطابق ڈاکٹر آغا ذیشان مرزا کے 70 سے زائد تحقیقی مقالے بین الاقوامی سائنسی جرائد میں شائع ہو چکے ہیں۔ ان کی تحقیقی اشاعتیں آرگینک کیمسٹری اور حیاتیاتی اہمیت کے حامل مرکبات کے شعبوں میں ان کی علمی سرگرمیوں کی عکاسی کرتی ہیں۔
اسٹینفورڈ یونیورسٹی سے منسوب دنیا کے ٹاپ 2 فیصد سائنس دانوں کی فہرست بین الاقوامی تحقیقی ڈیٹا اور بائبلیومیٹرک پیمانوں کی مدد سے مرتب کی جاتی ہے۔ اس میں شمولیت کے لیے محققین کی علمی پیداوار اور تحقیق کے اثرات کا مختلف اشاریوں کے ذریعے جائزہ لیا جاتا ہے۔ ڈاکٹر آغا ذیشان مرزا کی مسلسل تیسری مرتبہ اس فہرست میں شمولیت ان کی تحقیقی سرگرمیوں کے تسلسل کی نشاندہی کرتی ہے اور پاکستان کے علمی و تحقیقی شعبے کے لیے باعثِ مسرت ہے۔