چین کا قومی دن

یکم اکتوبر: چین کا 77واں قومی دن
ضیاء الحق سرحدی، پشاور (ستارہ امتیاز)
ziaulhaqsarhadi@gmail.com
طویل خانہ جنگی سے چھٹکارے کے بعد 21 ستمبر 1949ء کو چین کے عظیم رہنما ماؤزے تنگ نے عوامی جمہوریہ چین کی بنیاد رکھی۔ یکم اکتوبر چین کے قومی دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ ہر سال یکم اکتوبر سے سنہری ہفتہ کا آغاز ہوتا ہے، جسے پوری قوم کی طرف سے زبردست تیاری کے ساتھ خصوصی طور پر منایا جاتا ہے۔ بیجنگ، شن جن، ہاربین، ہانگ جو اور شیامن سمیت وسیع وعریض ملک کے تمام چھوٹے وبڑے شہروں میں انتہائی جوش وجذبے کے ساتھ قومی جشن کا اہتمام کیا جاتا ہے۔

پاکستان اور چین کے مابین لازوال دوستی کا سلسلہ گزشتہ 77 برسوں سے جاری ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ دوستی مضبوط تر ہوتی جا رہی ہے۔ 1951ء میں پاکستان اور چین کے مابین سفارتی تعلقات کا قیام عمل میں آیا۔ پاکستان کا شمار اُن ممالک میں ہوتا ہے جنھوں نے سب سے پہلے چین کو تسلیم کیا۔ اِس سے پاکستان اور چین کے مابین نئے باہمی تعلقات کا آغاز ہوا جو دونوں ملکوں کے رہنماؤں اور عوام کی سطح پر مضبوط ہوتے چلے گئے۔ دُنیا اور خطے میں سیاسی تغیرو تبدل سے بالا تر دونوں ملکوں کی دوستی پروان چڑھتی رہی جو دیگر ممالک کے لیے ایک مثال ہے۔ پاکستان نے تائیوان، تبت ودیگر مسائل پر ہمیشہ چین کے اصولی موقف کی تائید کی۔ چین نے بھی پاکستان کی علاقائی سلامتی، آزادی اور حفاظت کے لیے کھلے دل کے ساتھ پاکستان کی حمایت کی اور مخلصانہ خود غرضی سے پاک مالی معاونت کے ذریعے پاکستان کی معاشی اور معاشرتی ترقی کے حصول اور استحکام کے لیے پاکستان کی مدد کی۔

اِس سے قبل کہ پاکستان کے چین کے ساتھ حالیہ تعلقات کا جائزہ لیا جائے، بہتر ہوگا کہ سفارتی تعلقات کے قیام سے اُن منصوبوں کا ذکر کیا جائے جو چین نے پاکستان کی معیشت کو مضبوط بنانے کے لیے شروع کیے۔ اِن منصوبوں میں پہلا منصوبہ ہیوی مکینیکل کمپلیکس ٹیکسلا کا قیام ہے جس نے پاکستان کی معاشی ترقی میں بے مثال کردار ادا کیا۔ پاکستان میں جتنی ترقی ہوئی یا ہو رہی ہے وہ مکینیکل کمپلیکس ٹیکسلا کی ہی مرہون منت ہے۔

قراقرم ہائی وے کا ذکر کیا جائے تو یہ شاہراہ دونوں ممالک کے مابین دوستی کا ایک اہم سنگ میل قرار دی جا سکتی ہے۔ قراقرم ہائی وے جسے دُنیا کا آٹھواں بڑا عجوبہ بھی کہا جاتا ہے، نے نہ صرف دونوں ملکوں کی تجارت بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا بلکہ گلگت بلتستان کی ترقی میں بھی اِس شاہراہ کا اہم کردار ہے۔

پاکستان کو توانائی کے مسائل پر قابو پانے کے لیے بھی چین کی کوششوں اور سرمایہ کاری سے انحراف نہیں کیا جا سکتا۔ گلگت بلتستان اور کشمیر میں انرجی سیکٹر میں بہت سے منصوبے شروع کیے گئے ہیں۔ چین نیوکلیئر پاور سیکٹر میں بھی پاکستان کی مدد کر رہا ہے۔ 330 میگاواٹ کا چشمہ پاور پلانٹ پہلے ہی مکمل ہو چکا ہے جبکہ چشمہ کے مقام پر ہی چین کی مدد سے دو ایسے ہی پاور پلانٹ چشمہ 4 اور 5 پر بھی کام مکمل ہو گیا ہے اور توقع کی جا رہی ہے کہ یہ دونوں منصوبے نیشنل پاور گرڈ میں کئی سو میگاواٹ کا اضافہ کریں گے جس سے توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے میں کافی مدد ملے گی۔

چین اور پاکستان کے مابین تجارت کو بھی توسیع دی جا رہی ہے۔ چین پاکستانی مصنوعات کا پانچواں بڑا درآمد کنندہ ہے۔ اِس کے علاوہ چین کی مختلف کمپنیاں تیل وگیس، آئی ٹی، انجینئرنگ، مائننگ سیکٹر اور ہاؤسنگ ومواصلات کے شعبے میں بھی 300 ملین ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری کر چکی ہیں۔

پاکستان اور چین کے تعلقات ہر نشیب وفراز سے بالاتر مستحکم سے مستحکم تر ہوتے جا رہے ہیں۔ یہ دوستی صرف دونوں ممالک کی حکومتوں تک ہی محدود نہیں بلکہ دونوں ہمسایہ ممالک کے عوام بھی ایک دوسرے سے گہری محبت اور پیار رکھتے ہیں۔ قدرتی آفات میں بھی دونوں ممالک نے دل کھول کر ایک دوسرے کی مدد کی ہے۔ پاکستان اور چین کی یہ دوستی نہ ختم ہونے والی دوستی ہے۔

5 جولائی 2013ء کو چین اور پاکستان نے 46 ارب ڈالر کی چین پاکستان اقتصادی راہداری کی منظوری دی تھی۔ اِس منصوبے کے تحت بحیرہ عرب پر واقع پاکستان کی گوادر بندرگاہ کو چین کے شہر کاشغر سے ملانے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ اقتصادی تعلقات کے علاوہ چین نے ہر بُرے وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا۔ 2005ء میں پاکستان میں زلزلے اور 2008ء میں زلزلے کے وقت دونوں ملکوں نے وسائل سے بڑھ کر ایک دوسرے کی مدد کی۔ چین نے 2008ء کے زلزلے میں پاکستان کے لیے 6.2 ملین ڈالر کی امداد فراہم کی جبکہ ڈیڑھ لاکھ کے قریب کمبل، 3380 خیمے ودیگر سامان فراہم کیا گیا تھا جس کی مجموعی مالیت 20.5 ملین ڈالر تھی۔ اسی طرح چین میں مئی 2008ء میں زلزلہ آیا تو حکومت پاکستان اور صوبائی حکومتوں نے خیموں، کمبلوں اور جان بچانے والی ادویات بھیجیں۔ اسی طرح 2010ء کے سیلاب میں نقصانات کے ازالے کے لیے چین نے پاکستان کو 250 ملین ڈالر کی امداد دی، یہ کسی بھی ملک کی طرف سے پہلی مرتبہ اتنی بڑی امداد تھی۔

چین نے پاکستان کے ساتھ دفاعی شعبے میں بھی بہت تعاون کیا۔ چین نے نہ صرف پاکستان کو اسلحہ فراہم کیا بلکہ دفاعی طور پر پاکستان کو مضبوط بنانے کے لیے پاکستان کے اندر بھی اسلحہ کی تیاری کے لیے فیکٹریوں کے قیام میں معاونت کی جن میں پاکستان ایروناٹیکل کمپلیکس، ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا، پاکستان آرڈنینس فیکٹریز، پاکستان نیوی کے دفاعی منصوبے اور میزائل فیکٹریاں بھی چین کے تعاون سے کام کر رہی ہیں۔

پاکستان ایروناٹیکل کمپلیکس کامرہ میں جے ایف 17 تھنڈر فائٹر طیاروں کی تیاری بھی پاک چین دوستی کی ایک زندہ مثال ہے، یہ طیارے برآمد بھی کیے جا سکیں گے۔ قطر اور سری لنکا نے اِن طیاروں کی خریداری میں دلچسپی کا بھی اظہار کیا تھا، اس طرح پاکستان کثیر زرمبادلہ بھی کما رہا ہے۔ 1965ء اور 1971ء کی جنگوں میں چین نے بھرپور طریقے سے پاکستان کی اخلاقی، سفارتی اور مالی امداد کی۔ چین نے نہ صرف کشمیر پر پاکستان کے بھرپور موقف کی حمایت کی بلکہ بھارت کے کشمیر پر ظالمانہ قبضے کی مخالفت اور مذمت کی ہے۔

اس کے علاوہ بہت سے ایسے منصوبے ہیں جو پاکستان اور چین کے اشتراک سے جاری ہیں، اور بے شمار ایسے منصوبے ہیں جو یا تو چین کی مدد سے مکمل ہو چکے ہیں یا زیر تکمیل ہیں۔ پاک چین اقتصادی راہداری کے تحت 46 ارب ڈالر کے توانائی اور مواصلاتی منصوبوں کا جال بھی بچھایا جا رہا ہے جو پاک چین دوستی کی زندہ مثال ہے۔ اس میں 32 ارب ڈالرز کی بے مثال سرمایہ کاری، چاروں صوبوں میں توانائی کے 14 منصوبوں کی تعمیر، ہائیڈل، کول، ونڈ اور شمسی توانائی سے 10400 میگاواٹ بجلی کی پیداوار، 440 کلومیٹر طویل قراقرم ہائی وے کی دو مرحلوں میں تعمیر، کراچی-لاہور موٹروے کے 392 کلومیٹر طویل ملتان-سکھر سیکشن کی تعمیر، کراچی تا حویلیاں پاکستان ریلوے کے 1700 کلومیٹر طویل ٹریک کی توسیع وتعمیرِ نو، گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ، ایسٹ بے ایکسپریس وے، بریک واٹرز کی تعمیر، گوادر ہسپتال، فائبر کیبل وغیرہ شامل ہیں۔

چین اور پاکستان نہ صرف ہمسایہ ملک ہیں بلکہ ان کی مضبوط دوستی کی لمبی تاریخ ہے۔ عالمی تاریخ پر نظر دوڑائیں تو بہت کم ایسی مثالیں ملتی ہیں کہ پاکستان اور چین کی دوستی کی طرح کوئی اور مثال مل سکے۔ ہمیں پاک چین تعلقات کی 77ویں سالگرہ مناتے ہوئے اِن دوستی کے رشتوں کو اور مضبوط بنانا ہے اور دُنیا پر ثابت کرنا ہے کہ دونوں ملکوں کی حکومتوں اور عوام کے دلوں میں پائی جانے والی یہ دوستی اور محبت مضبوط تو ہو سکتی ہے اسے ختم نہیں کیا جا سکتا۔

آج چین سپر پاور بننے کی سمت گامزن ہے، مگر کم ہی پاکستانی جانتے ہیں کہ پاکستان ہی پہلا ملک تھا جہاں سے چینی عوام نے دُنیا کو دیکھنا شروع کیا۔ پاکستان ہی وہ پہلا غیر کمیونسٹ ملک ہے جس کی ایئر لائن، پی آئی اے کی پہلی بین الاقوامی پرواز نے چین میں لینڈ کیا۔ اس پر چین بھر میں جشن منایا گیا تھا۔ بعد ازاں پاکستان ہی پہلا ملک ہے جس نے 1969ء میں چین کو تین برطانوی ساختہ ہوائی جہاز، ٹرائڈنٹ (Hawker Siddeley Trident) فراہم کیے۔ یہ تینوں جہاز پی آئی اے کے زیر استعمال تھے۔

ان میں سے ایک جہاز چین کے بانی ماؤزے تنگ کو دیا گیا، وہ اپنی موت تک اسے استعمال کرتے رہے اور وہ ماؤ کی بیگم جیانگ قنگ کے بھی زیر استعمال رہا۔ اس جہاز پر آج بھی "کرسٹی بائی پاکستان” لکھا ہے۔ دوسرا ملٹری کمیشن اور سیکورٹی کونسل کو تفویض ہوا، جبکہ تیسرا ہوائی جہاز ماؤ کے جانشین لن بیاؤ کو دیا گیا۔

پاکستان پہلا ملک تھا جس نے چینی مصنوعات کی امپورٹ کی اجازت دی اور ہم ایک طویل عرصے تک چین کے زیور اور سوئیاں استعمال کرتے رہے۔ پاکستان نے چین کے مسلمانوں کو حج اور عمرے کی سہولت بھی دی۔ چین کے حاجی بسوں کے ذریعے پاکستان پہنچتے تھے اور پاکستانی انہیں حجازِ مقدس تک پہنچانے کا بندوبست کرتے۔ پاکستان کا ویزہ حاصل کرنا کبھی چین کے لوگوں کی سب سے بڑی خواہش ہوتی تھی۔

آج وہ چین دنیا میں ترقی کی انتہا کو چھو رہا ہے۔ یہ چین 46 ارب ڈالر کے منصوبے لیے پاکستان آتا ہے تو ہم اسے اپنی تاریخ کا اہم ترین واقعہ قرار دیتے ہیں۔ چین آگے نکل گیا جبکہ ہم اپنے ہی مزار کے مجاور بن کر رہ گئے۔ پاکستانیوں کو ان وجوہ کا جائزہ لینا چاہیے جن کے باعث افیونی چینی آج ترقی یافتہ بن چکے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے