اسلام آباد (کیو این این ورلڈ) دہشت گرد فتنہ الخوارج تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) بھی سہیل آفریدی کے دفاع میں میدان میں اتر آئی ہے۔ اس ممنوعہ تنظیم کے مبینہ بیان نے کئی نئے خوفناک سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
ٹی ٹی پی کے ترجمان محمد خراسانی کے نام سے جاری مبینہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے غلام وزیراعظم (شہباز شریف) اور باطل نظام کے سربراہ امریکی غلام عاصم منیر کی جانب سے پختون قوم کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کا اقتدار گرانے کی سازشیں اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہیں۔
بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اگرچہ ہم پاکستان میں نافذ جمہوریت کو باطل سمجھتے ہیں اور اس ملک میں شرعی نظام کے نفاذ کے خواہاں ہیں، مگر اس باطل جمہوری نظام کی دھن لگا کر پاکستانی فوج اب اپنے استعمار کے لیے جمہوریت کے منتخب شدہ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کے خلاف بھی سازش رچانا شروع ہو چکی ہے۔
مبینہ اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان اس بات کی وضاحت کرنا چاہتی ہے کہ پاکستان کی ایک منتخب وزیر اعلیٰ کے خلاف سازش اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستانی ریاست پختونوں اور اپنے مخالفوں کے لیے کس حد تک جا سکتی ہے۔ افکار و جمہوریت کے خلاف ہونے کے باوجود ہم پختونوں کے ترجمان سہیل آفریدی کے ساتھ کھڑے ہیں۔

بیان میں الزام لگایا گیا ہے کہ پاکستان کی ریاست معدنیات کے وسائل ہتھیانے کے لیے قبائلی اضلاع میں جنگ شروع کر چکی ہے جن پر اصلی حق یہاں کے عوام اور ولایت خراسان کا ہے۔ اگر اس ریاست نے سہیل خان آفریدی کو ہٹایا تو پھر خیبر سے لے کر کراچی تک سرعام جنگ ہوگی جس میں عام شہریوں کی ہلاکت کی تمام ذمہ داری اس باطل عسکری نظام اور فیصلہ سازوں کی ہوگی۔
اعلامیے کے آخر میں دعا کی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ سہیل آفریدی کی غیبی مدد فرمائے اور تحریک طالبان کو پاکستان میں کرپٹ اور ظالم نظام سے نجات کا ذریعہ بنائے۔ آمین۔
یہ مبینہ بیان 17 ربیع الثانی 1447 ہجری بمطابق 30 ستمبر 2026 کو جاری کیا گیا ہے۔
