گھوٹکی / سکھر (کیو این این ورلڈ / نامہ نگار مشتاق علی لغاری)خانپور مہر سے تعلق رکھنے والے صحافی عظیم سیال کے مبینہ طور پر لاپتہ ہونے کے معاملے پر پولیس نے تحقیقات شروع کر دی ہیں، جبکہ ان کی گاڑی سکھر ضلع کی حدود میں سیدوجا کے قریب سے مبینہ طور پر لاوارث حالت میں برآمد ہونے کے بعد پولیس نے اسے تحویل میں لے لیا ہے۔
صحافی عظیم سیال کے لاپتہ ہونے کی اطلاع کے بعد معاملہ اعلیٰ پولیس حکام کے نوٹس میں آ گیا۔ ڈی آئی جی سکھر رینج نے ایس ایس پی گھوٹکی اور ایس ایس پی سکھر سے واقعے سے متعلق رپورٹ طلب کر لی ہے۔
ڈی آئی جی سکھر رینج کے مطابق صحافی کے اغوا کی اطلاع ملنے کے بعد پولیس ان کے اہلخانہ سے مسلسل رابطے میں ہے، جبکہ پولیس ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ چکی ہیں۔ تاوان کی کال سے متعلق معاملے پر بھی ورثا سے رابطے میں رہتے ہوئے تمام زاویوں سے تحقیقات جاری ہیں۔ ڈی آئی جی کا کہنا ہے کہ صحافی عظیم سیال کی بحفاظت واپسی کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جا رہے ہیں اور جرائم پیشہ عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
گھوٹکی پولیس کے ترجمان کے مطابق پولیس کو صحافی عظیم سیال سے متعلق اطلاع صبح تقریباً 10 بجے ملی، جس کے فوری بعد مختلف پولیس ٹیمیں متحرک کر دی گئیں۔ پولیس ٹیمیں مختلف ذرائع سے معلومات حاصل کرنے، دستیاب شواہد کا جائزہ لینے اور واقعے کے تمام ممکنہ پہلوؤں کی چھان بین میں مصروف ہیں۔ سیدوجا کے علاقے میں بھی پولیس نفری پہنچ گئی اور گاڑی کو تحویل میں لے کر ضروری تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔
واقعے کے حوالے سے آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو کی جانب سے بھی نوٹس لیے جانے کی اطلاع ہے۔ متعلقہ پولیس افسران کو تحقیقات تیز کرنے اور صحافی کی بحفاظت بازیابی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لانے کی ہدایات دی گئی ہیں۔
صحافی کے لاپتہ ہونے کی خبر سامنے آنے کے بعد صحافتی حلقوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔ عظیم سیال کی فوری اور بحفاظت بازیابی کے مطالبے پر صحافیوں کی جانب سے قومی شاہراہ پر احتجاجی دھرنا بھی دیا گیا، جس کے باعث سندھ اور پنجاب کے درمیان ٹریفک کی روانی متاثر ہونے اور گاڑیوں کی قطاریں لگنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
پولیس حکام کے مطابق تحقیقات مختلف پہلوؤں سے جاری ہیں اور کسی بھی حتمی نتیجے پر پہنچنے سے قبل تمام دستیاب معلومات اور شواہد کی مکمل جانچ کی جا رہی ہے۔ صحافتی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ صحافی کی بحفاظت بازیابی کے لیے تمام وسائل استعمال کیے جائیں، شفاف تحقیقات کی جائیں اور ذمہ دار عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔
پولیس نے عوام اور صحافتی برادری سے اپیل کی ہے کہ غیرمصدقہ اطلاعات، افواہوں اور قیاس آرائیوں سے گریز کیا جائے اور کسی بھی اطلاع کو آگے بڑھانے سے قبل اس کی تصدیق کی جائے۔