ضلع گھوٹکی میں درختوں کے تحفظ کیلئے مؤثر نگرانی اور قانونی کارروائی کا مطالبہ

گھوٹکی (کیو این این ورلڈ/نامہ نگار مشتاق علی لغاری) ضلع گھوٹکی کے مختلف شہری اور دیہی علاقوں میں درختوں کی مبینہ غیرقانونی اور بے دریغ کٹائی کی شکایات پر شہری حلقوں نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سندھ، محکمہ جنگلات، ضلعی انتظامیہ، محکمہ ماحولیات، محکمہ آبپاشی، بلدیاتی اداروں اور پولیس سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ گھوٹکی، ڈہرکی، میرپور ماتھیلو، اوباڑو، خانگڑھ، عادلپور، خانپور مہر، جروار، قادرپور، سرحد، ریتی اور دیگر علاقوں میں موجود درخت ماحولیاتی توازن برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ زرعی ماحول، انسانی صحت اور مستقبل کی نسلوں کے لیے بھی اہم قدرتی اثاثہ ہیں۔ ان کے مطابق درختوں کی کٹائی سے متعلق سامنے آنے والی شکایات کی غیرجانبدارانہ تحقیقات ضروری ہیں تاکہ قانونی اجازت کے تحت ہونے والی کٹائی اور غیرقانونی کٹائی کے درمیان واضح فرق سامنے آسکے۔

شہریوں نے وزیراعلیٰ سندھ، چیف سیکریٹری سندھ اور کمشنر سکھر ڈویژن سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ محکموں سے رپورٹ طلب کی جائے اور ضلع گھوٹکی میں درختوں کے تحفظ کے لیے مؤثر مانیٹرنگ اور نگرانی کا مربوط نظام تشکیل دیا جائے۔

شہری حلقوں نے محکمہ جنگلات اور سوشل فاریسٹری سے مطالبہ کیا کہ ضلع بھر میں جامع فیلڈ سروے کرایا جائے اور سرکاری و جنگلاتی اراضی سمیت سوشل فاریسٹری کے علاقوں میں موجود درختوں کا ریکارڈ مرتب کیا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ درختوں کی کٹائی سے متعلق جاری کیے گئے اجازت ناموں اور دیگر قانونی دستاویزات کی بھی جانچ کی جائے تاکہ کسی بھی شکایت کی حقیقت سامنے لائی جاسکے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ اگر کسی مقام پر غیرقانونی کٹائی کے شواہد ملیں تو متعلقہ قوانین کے تحت کارروائی کی جائے، جبکہ کٹائی اور لکڑی کی نقل و حمل کے پورے عمل کی بھی نگرانی کی جائے۔

شہریوں نے ڈپٹی کمشنر گھوٹکی اور متعلقہ اسسٹنٹ کمشنرز سے بھی مطالبہ کیا کہ اپنی اپنی حدود میں درختوں کی کٹائی، لکڑی کی نقل و حمل اور سرکاری اراضی پر موجود درختوں کی صورتحال کی نگرانی کریں۔ ضرورت پڑنے پر محکمہ جنگلات کے افسران کے ساتھ مشترکہ فیلڈ انسپیکشن کرائی جائے تاکہ شکایات کی موقع پر جانچ ہوسکے۔

اسی طرح محکمہ آبپاشی اور متعلقہ بیراج و کینال انتظامیہ سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ نہروں، شاخوں، بندوں اور سرکاری آبپاشی اراضی پر موجود درختوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔ شہریوں کے مطابق ان علاقوں میں درختوں کی کٹائی سے متعلق شکایات کی بھی فوری جانچ ہونی چاہیے اور قانونی اجازت کے بغیر کٹائی کی صورت میں کارروائی کی جانی چاہیے۔

محکمہ ماحولیات اور سندھ انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی (SEPA) سے بھی مطالبہ کیا گیا کہ جہاں درختوں کی کٹائی سے ماحولیاتی قوانین کی خلاف ورزی کا معاملہ بنتا ہو وہاں دستیاب قانونی اختیارات کے مطابق کارروائی کی جائے اور ماحولیاتی نقصان کا جائزہ لیا جائے۔

شہری حلقوں نے آئی جی سندھ، ڈی آئی جی سکھر، ایس ایس پی گھوٹکی اور متعلقہ تھانوں کے ایس ایچ اوز سے مطالبہ کیا کہ اگر تحقیقات کے دوران غیرقانونی کٹائی، چوری شدہ لکڑی یا غیرقانونی نقل و حمل کے قابلِ تصدیق شواہد سامنے آئیں تو قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے اور ذمہ دار افراد کو قانونی عمل کا سامنا کرنا پڑے۔

اسی طرح اینٹی کرپشن سندھ سے بھی مطالبہ کیا گیا کہ اگر کسی سرکاری اہلکار کے خلاف رشوت، اختیارات کے ناجائز استعمال یا مبینہ ملی بھگت کے قابلِ تصدیق شواہد سامنے آئیں تو متعلقہ قوانین کے تحت انکوائری کی جائے۔

شہریوں نے ضلع گھوٹکی میں درختوں کا جامع ڈیجیٹل ریکارڈ مرتب کرنے، جغرافیائی بنیادوں پر فیلڈ سروے کرانے اور باقاعدہ مانیٹرنگ کا نظام قائم کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بڑے، قدیم اور ماحولیاتی لحاظ سے اہم درختوں کی نشاندہی کرکے ان کے تحفظ کے لیے خصوصی اقدامات کیے جانے چاہئیں، جبکہ سرکاری زمینوں، سڑکوں، نہروں اور عوامی مقامات پر موجود درختوں کی نگرانی بھی مؤثر بنائی جائے۔

شہری حلقوں کے مطابق صرف شجرکاری مہمات کا انعقاد کافی نہیں بلکہ پہلے سے موجود درختوں کا تحفظ بھی ریاستی اداروں کی ترجیح ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا ہے کہ غیرقانونی کٹائی کی روک تھام، لکڑی کی نقل و حمل کی نگرانی، شکایات کی بروقت تحقیقات اور خلاف ورزی ثابت ہونے کی صورت میں قانونی کارروائی کے ذریعے ہی درختوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جاسکتا ہے۔

شہریوں نے عوام سے بھی اپیل کی کہ اگر کسی علاقے میں درختوں کی غیرقانونی کٹائی کا شبہ ہو تو ممکنہ حد تک مقام، تاریخ، تصاویر، ویڈیو اور دیگر قابلِ تصدیق شواہد محفوظ کرکے متعلقہ سرکاری اداروں کو اطلاع دیں تاکہ معاملے کی باقاعدہ تحقیقات ممکن ہوسکیں۔

شہری حلقوں نے مطالبہ کیا کہ ضلع گھوٹکی میں درختوں کی مبینہ غیرقانونی کٹائی کی شکایات پر فوری مشترکہ سروے، فیلڈ مانیٹرنگ اور مؤثر قانونی کارروائی کا نظام قائم کیا جائے، جبکہ تحقیقات کے نتیجے میں خلاف ورزی ثابت ہونے کی صورت میں ذمہ دار افراد کے خلاف بلاامتیاز قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے