لاہور(کیو این این ورلڈ)امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ ملک میں کوئی ’’سندھو دیش‘‘ کا نعرہ نہیں چلے گا اور جماعت اسلامی کسی ایسے طبقے یا نظریے کو تسلیم نہیں کرتی جو نظریۂ پاکستان کی نفی کرتا ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کو ان کے بنیادی اور سیاسی حقوق سے محروم رکھنے والوں کا پاکستان اور نظریۂ پاکستان سے کوئی تعلق نہیں۔
لاہور کے فیصل چوک، مال روڈ پر پٹرولیم لیوی اور مہنگائی کے خلاف جاری دھرنے کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ یہ دھرنا عوام کی چیخ و پکار کو ایک مؤثر آواز میں تبدیل کرنے کی جدوجہد ہے۔ انہوں نے کہا کہ دھرنے کے شرکاء عوام پر ہونے والے ظلم کے خلاف آواز بلند کر رہے ہیں اور انہیں یقین ہے کہ یہ جدوجہد اپنے منطقی انجام تک پہنچے گی۔
انہوں نے کہا کہ عوامی جدوجہد کا یہ عمل معاشرے میں شعور بیدار کرنے کا ذریعہ ہے اور جماعت اسلامی ظلم، ناانصافی اور عوامی مسائل کے خلاف اپنی آواز بلند کرتی رہے گی۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومت کے ساتھ مذاکرات کے لیے جماعت اسلامی کی ٹیم نے مکمل تیاری کر رکھی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت مذاکرات میں سنجیدگی کا مظاہرہ کرے گی تو جماعت اسلامی بھی معاملات کو آگے بڑھانے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ معاشی دہشت گردی کا خاتمہ کیا جائے اور عوام پر پٹرولیم لیوی کے بوجھ کو ختم کیا جائے۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ پٹرولیم لیوی کے نام پر عوام سے مزید بوجھ برداشت نہیں کروایا جا سکتا اور ’’لیوی کا بھتہ‘‘ مزید نہیں چلے گا۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کی تحریک محض چند مطالبات تک محدود نہیں بلکہ ملک میں نظام کی اصلاح اور تبدیلی کی جدوجہد ہے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ ملک میں حکمرانی کا نظام مخصوص بااثر طبقوں کے گرد گھومتا ہے، جس میں جاگیردار اور وڈیرے شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ چاہے مارشل لا ہو یا نام نہاد جمہوریت، یہی طبقہ ہر دور میں اقتدار کے مراکز میں دکھائی دیتا ہے۔
مریم نواز کے ایک بیان پر تنقید کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے اس کی مذمت کی اور پنجاب کی تعلیمی پالیسیوں پر بھی اعتراضات اٹھائے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پنجاب میں ہزاروں سرکاری اسکولوں کو نجی شعبے کے حوالے کیا گیا ہے۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ طاقت اور بندوق کے زور پر اقتدار میں آنے والے طبقات عوام کو حقِ حکمرانی سے محروم رکھتے ہیں، جبکہ ملک کو مضبوط بنانے کے لیے عوام کی حقیقی نمائندگی اور ان کے حقوق کا تحفظ ضروری ہے۔
واضح رہے کہ پٹرولیم لیوی اور مہنگائی کے خلاف جماعت اسلامی کے دھرنے گزشتہ 22 روز سے ملک کے مختلف شہروں میں جاری ہیں۔