لاہور، پشاور (کیو این این ورلڈ): ملک کے مختلف حصوں میں مون سون بارشوں کا شدید سلسلہ جاری ہے، جبکہ پنجاب اور خیبرپختونخوا میں بارشوں کے باعث چھتیں اور دیواریں گرنے، کرنٹ لگنے اور سیلابی ریلوں کے مختلف واقعات میں کم از کم 23 افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی ہوگئے ہیں۔ متعدد مکانات کو بھی نقصان پہنچا ہے جبکہ کئی نشیبی علاقے زیر آب آگئے ہیں۔
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) پنجاب کے مطابق صوبے میں بارشوں کے دوران پیش آنے والے مختلف حادثات میں 9 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوئے۔ لاہور کے نواحی علاقے رائیونڈ میں گھر کی چھت گرنے سے ایک شخص جان کی بازی ہار گیا جبکہ تین افراد زخمی ہوئے۔ گلشن راوی کے قریب ایک اور حادثے میں چار افراد زخمی ہوئے۔
پاکپتن میں کمرے کی چھت گرنے سے ایک خاتون جاں بحق ہوگئی جبکہ کرنٹ لگنے سے ایک نوجوان زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھا۔ گجرات میں چھت گرنے کے واقعات میں ایک شخص جاں بحق اور چھ افراد زخمی ہوئے، جبکہ سیالکوٹ میں تین افراد زخمی ہوئے۔
گوجرانوالہ میں بارش کے باعث چھتیں اور دیواریں گرنے کے آٹھ مختلف واقعات میں تین افراد جاں بحق اور 14 زخمی ہوئے، جبکہ کرنٹ لگنے کے تین حادثات میں ایک شخص جاں بحق اور دو افراد زخمی ہوئے۔ ساہیوال میں بھی چھت گرنے سے ایک خاتون جاں بحق اور تین افراد زخمی ہوئے، جبکہ منڈی بہاؤالدین اور بہاولنگر میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔
طوفانی بارشوں کے باعث پنڈی بھٹیاں، فیصل آباد، بھلوال اور جھنگ سمیت کئی شہروں کے نشیبی علاقے زیر آب آگئے، جہاں شہریوں کو آمدورفت میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
دوسری جانب خیبرپختونخوا میں بارشوں اور فلیش فلڈ کے باعث مختلف حادثات میں 14 افراد جاں بحق اور 19 زخمی ہوگئے۔ جاں بحق افراد میں 6 مرد، 6 بچے اور 2 خواتین شامل ہیں، جبکہ زخمیوں میں 11 مرد، 4 خواتین اور 4 بچے شامل ہیں۔
پی ڈی ایم اے خیبرپختونخوا کے مطابق بارشوں سے 28 مکانات متاثر ہوئے جن میں 6 مکمل طور پر منہدم جبکہ 22 کو جزوی نقصان پہنچا۔ متاثرہ اضلاع میں پشاور، نوشہرہ، خیبر، مردان، بونیر، باجوڑ، شانگلہ، صوابی، چترال، دیر، ایبٹ آباد، مانسہرہ، تورغر، کرم اور شمالی وزیرستان شامل ہیں۔
حکام کے مطابق مون سون بارشوں کے حالیہ اسپیل کے دوران ملک بھر میں مجموعی اموات کی تعداد 50 کے قریب پہنچ چکی ہے، جبکہ خیبرپختونخوا سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ قرار دیا جا رہا ہے۔ متعدد علاقوں میں فلیش فلڈ، اربن فلڈنگ، لینڈ سلائیڈنگ اور بجلی گرنے کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے ہیں۔
این ڈی ایم اے اور صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز نے 24 جولائی تک مزید بارشوں، فلیش فلڈز، اربن فلڈنگ اور لینڈ سلائیڈنگ کے خطرات کے پیش نظر ہائی الرٹ جاری کرتے ہوئے شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔