انقرہ (کیو این این ورلڈ) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک بار پھر اپنے بیان کے باعث خبروں کی زینت بن گئے، جب نیٹو سربراہی اجلاس کے موقع پر ایران سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے ان کی زبان پھسل گئی اور وہ ایران کو ’’اسلامی جمہوریہ جاپان‘‘ کہہ بیٹھے۔ ٹرمپ کے اس غیر معمولی جملے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوگئی، جہاں صارفین نے اسے موضوعِ بحث بنا لیا۔
ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ میں نیٹو سربراہی اجلاس کی سائیڈ لائن پر یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی سے ملاقات کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے ایران کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’اسلامی جمہوریہ جاپان‘‘ نے امریکی بحری بیڑے یو ایس ایس ابراہم لنکن پر 111 میزائل داغے، تاہم امریکی دفاعی نظام نے تمام میزائلوں کو کامیابی سے روک لیا۔
ٹرمپ کے اس بیان کے فوراً بعد سوشل میڈیا صارفین اور سیاسی مبصرین نے نشاندہی کی کہ امریکی صدر غالباً ایران کا ذکر کرنا چاہتے تھے، تاہم گفتگو کے دوران انہوں نے غلطی سے جاپان کا نام لے لیا۔ ویڈیو کے مختلف کلپس چند ہی گھنٹوں میں لاکھوں بار دیکھے گئے اور متعدد صارفین نے اس پر طنزیہ تبصرے بھی کیے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق عالمی سطح پر اہم معاملات پر گفتگو کے دوران اس نوعیت کی زبانی لغزشیں غیر معمولی تو نہیں ہوتیں، تاہم امریکی صدر کے منصب اور موجودہ حساس بین الاقوامی صورتحال کے باعث یہ واقعہ فوری طور پر توجہ کا مرکز بن گیا۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی ایک مرتبہ پھر بڑھ رہی ہے۔ جنگ بندی کے خاتمے کے بعد خطے میں صورتحال کشیدہ ہے اور دونوں ممالک کے درمیان بیانات اور فوجی سرگرمیوں میں بھی شدت دیکھی جا رہی ہے۔
اپنی گفتگو کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایران کے رویے سے خوش نہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران نے گزشتہ روز امریکی جہازوں پر ڈرون حملے کیے، جس کے جواب میں امریکا نے رات کے وقت ایران کے مختلف ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ ٹرمپ نے مزید کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو امریکا آئندہ بھی سخت کارروائی کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔
دوسری جانب سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو کے باعث ٹرمپ کے اصل پیغام سے زیادہ ان کی زبانی لغزش زیرِ بحث رہی، جبکہ صارفین کی بڑی تعداد نے ’’اسلامی جمہوریہ جاپان‘‘ کی اصطلاح کو طنز و مزاح کا موضوع بنا دیا۔