2017 سے 2026 تک: غلطی، غفلت اور نیا قانون
تحریر: سید نذیر شاہ
تجربہ انسان کو بیدار رکھتا ہے، مگر سیاست میں تجربہ اکثر تکبر اور غفلت کی چادر اوڑھ لیتا ہے۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) ہماری سیاست کا ایک تناور درخت ہے، جسے اقتدار، وفاق اور پنجاب کی حکمرانی اور قانون سازی کے تمام رموز کا بخوبی ادراک ہے۔ یہ کوئی نوآموز جماعت نہیں، مگر گزشتہ کچھ عرصے سے اس جماعت کی طرف سے قانون سازی میں جو تسلسل کے ساتھ سنگین غلطیاں ہو رہی ہیں، وہ حیران کن بھی ہیں اور افسوسناک بھی۔ سوال یہ نہیں کہ غلطی کیوں ہوئی؟ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے پارلیمنٹیرینز بل پاس کرنے سے پہلے اسے پڑھتے بھی ہیں، یا قانون سازی اب محض ایک رسمی کارروائی اور ربڑ سٹیمپ کا کام بن کر رہ گئی ہے؟
یہ سوال محض ایک قیاس آرائی نہیں، بلکہ تاریخ کے ان تلخ اور خونی صفحات سے جنم لے رہا ہے جنہیں ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ سن 2017 میں انتخابی اصلاحات ایکٹ پیش کیا گیا تو اسے نظام کی بہتری کا ذریعہ سمجھا گیا، مگر اس میں ایک ایسی شق شامل کر دی گئی جس نے ملک کا مزاج بدل کر رکھ دیا اور ریاست کو طویل انارکی کی بھٹی میں جھونک دیا۔ کاغذاتِ نامزدگی میں ختمِ نبوت کے حلف نامے کے الفاظ کو بدلا گیا تو حکومت نے اسے "کلریکل غلطی” قرار دے کر جان چھڑانے کی کوشش کی۔ سوال یہ ہے کہ اگر یہ غلطی تھی، تو کیا یہ بل وزارتِ قانون کی میزوں سے نہیں گزرا؟ کیا کابینہ کے کمروں میں اس پر بحث نہیں ہوئی؟ کیا قومی اسمبلی اور سینیٹ میں موجود حکومتی نمائندوں میں سے کسی ایک کی نظر بھی اس انتہائی حساس شق پر نہیں پڑی؟ یا سب نے اس بل کو پڑھنے کی زحمت ہی نہیں کی تھی۔
اس غفلت کا خمیازہ پوری ریاست نے بھگتا۔ فیض آباد میں ہفتوں دھرنا رہا، دارالحکومت مفلوج ہوا اور وزیرِ قانون کو استعفیٰ دینا پڑا۔ لیکن معاملہ یہاں نہیں رکا۔ معاشرے میں پھیلی نفرت کا نتیجہ یہ نکلا کہ خواجہ آصف پر سیاہی پھینکی گئی، نواز شریف پر جوتا اچھالا گیا اور احسن اقبال کو گولی کا نشانہ بنایا گیا۔ ان تمام واقعات میں ملوث افراد کا ایک ہی مؤقف تھا کہ یہ سب ختمِ نبوت کے قانون میں چھیڑ چھاڑ کا ردعمل ہے۔ بالآخر حکومت کو سر جھکا کر وہ قانون واپس لینا پڑا۔ اگر مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے 2017 کے اس تلخ تجربے سے حقیقی معنوں میں سبق سیکھا ہوتا، تو آج 2026 میں ٹیلی کمیونیکیشن ترمیمی بل کی متنازع شقوں پر پورے پارلیمانی نظام کو دوبارہ شرمندگی نہ اٹھانی پڑتی۔
بدقسمتی دیکھیے کہ نو سال بعد بھی وہی پرانی کوتاہی دہرائی جا رہی ہے۔ بلاشبہ، پاکستان کو ڈیجیٹل بنانا اور فائیو جی جیسی جدید سہولیات لانا ترقی کے لیے ناگزیر ہے، لیکن اس مقصد کے لیے نئے قانون کی جس طرح حمایت کی گئی، وہ نہ صرف حیران کن ہے بلکہ تشویشناک بھی ہے۔ اس کی شق کے تحت ٹیلی کام کمپنیاں کسی بھی شہری کی نجی جائیداد پر ٹیلی کمیونیکیشن سسٹم انفراسٹرکچر، ٹیلی کام ٹاور یا اس طرح کے دیگر آلات لگا سکتی ہیں۔ آپ کو کمپنی اپنی مرضی کا کرایہ پیش کرے گی، اور اگر آپ نہ مانیں تو وہ محض دو نوٹس بھیج کر آپ کے خلاف فیصلہ کریں گے اور اگر آپ نے اس فیصلے کو نہ مانا تو آپ پر پانچ کروڑ روپے کا بھاری جرمانہ عائد کر دیا جائے گا۔ اس قانون کے تحت آپ عدالت کا دروازہ بھی نہیں کھٹکھٹا سکتے۔ کیا یہ نجی ملکیت پر ڈاکہ ڈالنے جیسا قانون نہیں؟
ایسی قانون سازی کا طریقہ واردات ایک ہی ہے۔ پہلے بل کو خاموشی سے ایوان سے گزارو، جب شور مچے تو کہہ دو کہ "زبان مناسب نہیں تھی” اور معافی مانگ لو۔ کیا پارلیمنٹ کا کام یہی ہے؟ کیا عوام اپنے نمائندوں کو اس لیے منتخب کرتے ہیں کہ وہ آنکھیں بند کر کے بل پاس کریں اور پھر پچھتاتے پھریں؟ اصل المیہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں قانون سازی ایک رسمی مشق بن چکی ہے۔ بل آتا ہے، ہاتھ اٹھتے ہیں اور قانون پاس ہو جاتا ہے۔ وزارتِ قانون کا کام بل کا آئینی جائزہ لینا ہے، اور پارلیمانی کمیٹیاں اس لیے ہیں کہ ہر شق کو پرکھیں، مگر ایسا لگتا ہے کہ یہ ادارے یا تو خوابِ غفلت میں ہیں یا پھر پسِ پردہ کوئی اور کھیل کھیلا جا رہا ہے۔ ٹیلی کام بل کے بارے میں یہ بازگشت بھی گردش کر رہی ہے کہ نجی کمپنیوں کے نمائندے وزارتوں کے اندر بیٹھ کر قانون لکھواتے ہیں۔ اگر یہ سچ ہے تو یہ غلطی نہیں بلکہ مفاد پرستی ہے۔
آئین و قانون سازی محض سرکاری کاغذوں پر سیاہی بکھیرنے کا رسمی عمل نہیں، بلکہ یہ کروڑوں شہریوں کی تقدیر اور ان کے بنیادی حقوق کا تعین کرنے والا ایک انتہائی حساس معاملہ ہے۔ جب منتخب نمائندے بغیر پڑھے اور آنکھیں بند کر کے بلوں کو منظوری دیتے ہیں، تو اس سنگین غفلت کا خمیازہ عوام کو ہی بھگتنا پڑتا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ پارلیمان اپنے آئین و قانون سازی کے عمل کو ازسرِ نو ترتیب دے۔ کسی بھی قانون کو پیش کرنے سے قبل ماہرین کی کڑی جانچ پڑتال، وسیع تر عوامی مشاورت اور ایوانِ اقتدار میں ٹھوس اور بامعنی بحث اب وقت کا سب سے بڑا قومی تقاضا ہے۔