اسلام آباد (کیو این این ورلڈ): حکومت کے مجوزہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن (ری آرگنائزیشن) ترمیمی بل 2026 پر نجی جائیداد اور "رائٹ آف وے” سے متعلق شقوں کے حوالے سے پیدا ہونے والے خدشات کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے بل پر نظرثانی کے لیے اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم کر دی ہے۔ کمیٹی کی سربراہی وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ کریں گے جبکہ سینیٹر شیری رحمان، وفاقی وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ، احد خان چیمہ، اٹارنی جنرل منصور اعوان اور قانون و انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ماہرین بھی اس کا حصہ ہوں گے۔ وزیراعظم نے کمیٹی کو ہدایت کی ہے کہ وہ بل کے متنازع نکات، بالخصوص رائٹ آف وے فریم ورک اور نجی زمینوں سے متعلق شقوں کا تفصیلی جائزہ لے کر جلد اپنی سفارشات پیش کرے۔
یاد رہے کہ قومی اسمبلی اس ترمیمی بل کو پہلے ہی منظور کر چکی ہے جبکہ یہ اس وقت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن کے زیر غور ہے۔ بل کی بعض شقوں، خصوصاً ٹیلی کام کمپنیوں کو فائبر آپٹک کیبل بچھانے، موبائل ٹاورز نصب کرنے اور دیگر انفراسٹرکچر کی تنصیب کے لیے نجی و سرکاری املاک تک رسائی دینے کے اختیارات، سوشل میڈیا اور مختلف حلقوں میں شدید بحث کا موضوع بنے ہوئے ہیں۔ ناقدین کا مؤقف ہے کہ مجوزہ قانون نجی املاک کے مالکان پر دباؤ ڈال سکتا ہے اور بعض صورتوں میں انہیں اپنی زمین یا جائیداد ٹیلی کام منصوبوں کے لیے فراہم کرنے کا پابند بنا سکتا ہے۔
دوسری جانب وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن نے ان خدشات کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ مجوزہ ترامیم کسی بھی صورت نجی زمین کے جبری حصول یا مالکان کی اجازت کے بغیر ان کی جائیداد پر قبضے کی اجازت نہیں دیتیں۔ وزارت کے مطابق رائٹ آف وے کی نئی شقوں کا مقصد ملک میں ٹیلی کام انفراسٹرکچر کی تیز رفتار توسیع، فائبرائزیشن کے عمل کو فروغ دینا، 5G ٹیکنالوجی کے لیے راہ ہموار کرنا اور عوام کو بہتر انٹرنیٹ سہولیات فراہم کرنا ہے، نہ کہ نجی املاک کے حقوق کو محدود کرنا۔
وزارت کا کہنا ہے کہ مجوزہ قانون کے تحت جائیداد کے مالکان کو اعتراض اٹھانے، شرائط طے کرنے، معاوضے پر مذاکرات کرنے اور منصوبے کے طریقۂ کار پر اپنی رائے دینے کا مکمل حق حاصل ہوگا۔ اگر کسی نجی جائیداد کے مالک کی جانب سے مقررہ مدت میں جواب موصول نہ ہو تو معاملہ متعلقہ حکومتی ادارے کے سپرد کیا جائے گا، تاہم اس دوران ٹیلی کام کمپنی کو زبردستی زمین میں داخل ہونے یا تعمیراتی کام شروع کرنے کا اختیار حاصل نہیں ہوگا۔ وزارت نے مزید وضاحت کی ہے کہ انفراسٹرکچر کی تنصیب کے بعد متعلقہ ادارے اس بات کے پابند ہوں گے کہ جائیداد کو اس کی اصل حالت میں بحال کریں اور کسی مستقل نقصان سے بچایا جائے۔
مجوزہ بل میں رائٹ آف وے کی تعریف کو بھی وسعت دی گئی ہے۔ نئی شقوں کے تحت ٹیلی کام لائسنس ہولڈرز کو سرکاری اور بعض مخصوص نجی املاک تک رسائی حاصل ہو سکے گی تاکہ آپٹیکل فائبر کیبلز، ٹیلی کام ٹاورز اور دیگر مواصلاتی نظام نصب اور برقرار رکھے جا سکیں۔ بل کے مطابق نجی املاک کی صورت میں معاوضے یا کرائے کے معاملات باہمی رضامندی سے طے کیے جائیں گے، جبکہ اختلاف کی صورت میں معاملہ متعلقہ حکومتی فورم کے ذریعے حل کیا جائے گا۔
بل کا ایک اور اہم اور متنازع پہلو 5 کروڑ روپے تک جرمانے کی شق ہے۔ ابتدائی تاثر یہ تھا کہ اگر کوئی نجی مالک یا ادارہ ٹیلی کام کمپنی کو جگہ دینے سے انکار کرے تو اس پر بھاری جرمانہ عائد کیا جا سکے گا، تاہم وزارتِ آئی ٹی کا کہنا ہے کہ جرمانے کی یہ شق عمومی طور پر تمام شہریوں پر لاگو نہیں ہوگی بلکہ ان معاملات سے متعلق ہے جہاں پہلے سے طے شدہ قانونی یا معاہداتی ذمہ داریوں کے باوجود رکاوٹ یا تاخیر پیدا کی جائے، جس سے سرمایہ کاری اور انفراسٹرکچر منصوبے متاثر ہوں۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ پاکستان میں انٹرنیٹ سروسز کے معیار اور نیٹ ورک کی توسیع میں رکاوٹ کی ایک بڑی وجہ رائٹ آف وے کی منظوری کا پیچیدہ نظام، مختلف اداروں کی غیر یکساں شرائط اور اضافی فیسیں ہیں، جس کے باعث ٹیلی کام شعبے میں سرمایہ کاری متاثر ہوئی۔ وزارت کے مطابق مجوزہ ترامیم کا مقصد ایک شفاف اور یکساں قانونی فریم ورک متعارف کرانا ہے تاکہ جدید ٹیلی کمیونیکیشن انفراسٹرکچر کی تعمیر تیز ہو سکے اور ملک بھر میں ڈیجیٹل رابطوں کو بہتر بنایا جا سکے۔
ادھر وزیراعظم کی جانب سے قائم کردہ نظرثانی کمیٹی کو اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اس کے ذریعے نجی املاک کے تحفظ، شہری حقوق اور ٹیلی کام انفراسٹرکچر کی ترقی کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ کمیٹی کی سفارشات کے بعد یہ واضح ہو سکے گا کہ متنازع رائٹ آف وے شقوں میں مزید تبدیلیاں کی جاتی ہیں یا حکومت موجودہ مسودے کا ہی دفاع کرتی ہے۔