پیر عادل (کیو این این ورلڈ / نامہ نگار باسط علی گاڈی)وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے ‘صاف ستھرا پنجاب’ مشن کے بلند و بانگ دعوے پیر عادل میں عملی طور پر دھرے کے دھرے رہ گئے ہیں۔ صفائی مہم کے نام پر عملے کی ٹیمیں تو ہر طرف فوٹو سیشن اور کاغذی کارروائیوں کے لیے دکھائی دیتی ہیں، مگر زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں اور علاقے میں صفائی نام کی کوئی شے نظر نہیں آتی۔
پیر عادل کی بستی جلیل آباد میں نکاسی آب کا سنگین مسئلہ عرصے سے جوں کا توں موجود ہے، جس کے باعث علاقہ مکین شدید ذہنی اور جسمانی اذیت میں مبتلا ہیں۔ گلیوں اور بازاروں میں جمع بدبودار پانی، کیچڑ اور تعفن نے شہریوں کے معمولاتِ زندگی کو بری طرح مفلوج کر کے رکھ دیا ہے اور نماز پڑھنے والوں کو مسجد جانے میں سخت دشواری کا سامنا ہے۔
علاقے میں جگہ جگہ گندگی اور کوڑے کرکٹ کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں جبکہ سیوریج کا نظام نہ ہونے کے برابر ہے۔ ڈرینج سسٹم بلاک ہونے کی وجہ سے بستی جلیل آباد کی گلیاں باقاعدہ جوہڑ کا منظر پیش کر رہی ہیں، جو حکومت کے ‘صاف ستھرا پنجاب’ کے نعرے پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ گندگی کے ان ڈھیروں اور کھڑے پانی کی وجہ سے علاقے میں مچھروں اور مکھیوں کی بھرپمار ہو چکی ہے، جس سے وبائی امراض پھیلنے کا شدید خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔
بستی جلیل آباد کے مکینوں اور سماجی حلقوں نے اعلیٰ حکام، ضلعی انتظامیہ اور محکمہ بلدیات سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ محض زبانی دعوؤں اور فوٹو سیشنز کے بجائے پیر عادل میں فوری طور پر عملی اقدامات کریں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر سیوریج اور صفائی کا نظام فوری درست نہ کیا گیا تو عوامی بے چینی مزید شدت اختیار کر سکتی ہے، جس کی تمام تر ذمہ داری مقامی انتظامیہ پر ہوگی۔