پاکستان میں ممکنہ امن مذاکرات، ٹرمپ کے دعوے اور دھمکیاں، ایران کا محتاط مؤقف

اسلام آباد (کیو این این ورلڈ) مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کے باوجود سفارتی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں اور امریکا و ایران کے درمیان ممکنہ مذاکرات کے لیے پاکستان ایک اہم مرکز کے طور پر سامنے آ رہا ہے، تاہم اس دوران سخت بیانات، عسکری دعوے اور متضاد اطلاعات نے صورتحال کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ ان کے نمائندے مذاکرات کے لیے اسلام آباد جا رہے ہیں اور وہ جلد وہاں موجود ہوں گے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران نے آبنائے ہرمز میں فائرنگ کر کے جنگ بندی کی خلاف ورزی کی ہے، جبکہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز بند کرنے کے اعلان کو بھی غیر معمولی قرار دیا۔

ٹرمپ نے ایک طرف ایران کو “اچھے معاہدے” کی پیشکش کی، تو دوسری جانب سخت دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ اگر معاہدہ نہ ہوا تو امریکا ایران کے پاور پلانٹس اور پلوں کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز کی بندش سے ایران کو یومیہ بھاری مالی نقصان ہو رہا ہے جبکہ امریکا متاثر نہیں ہو رہا۔

اسی دوران امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ امریکی بحریہ نے خلیج عمان میں ایک بڑے ایرانی جہاز “ٹوسکا” کو روک کر اپنی تحویل میں لے لیا ہے، تاہم اس حوالے سے آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق سامنے نہیں آئی۔ دوسری جانب برطانیہ نے ٹرمپ کے اس دعوے کی تردید کی ہے کہ آبنائے ہرمز میں برطانوی جہاز حملے کی زد میں آیا، جبکہ مختلف رپورٹس میں بھارتی جہازوں پر فائرنگ کے واقعات کا ذکر ضرور کیا گیا ہے۔

سفارتی سطح پر پیش رفت کی بات کریں تو ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں دعویٰ کیا کہ ایران کے ساتھ ایک یا دو دن میں معاہدہ طے پا سکتا ہے اور اسی ہفتے مذاکرات کاروں کی ملاقات متوقع ہے۔ ان کے مطابق ممکنہ معاہدہ نہ صرف کشیدگی کم کرے گا بلکہ اسرائیل کی سیکیورٹی کو بھی یقینی بنائے گا۔ انہوں نے لبنان میں اسرائیلی کارروائیاں روکنے پر بھی زور دیا۔

ادھر امریکی میڈیا کے مطابق ایرانی مذاکراتی ٹیم کے پاکستان آنے کی خبریں گردش کر رہی ہیں اور یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اگر حالات سازگار رہے تو امریکی اور ایرانی صدور بھی پاکستان کا دورہ کر سکتے ہیں، تاہم ایران نے تاحال باضابطہ طور پر وفد بھیجنے کی تصدیق نہیں کی۔ ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ جب تک امریکی ناکہ بندی ختم نہیں ہوتی، مذاکرات میں شرکت کا فیصلہ نہیں کیا جائے گا اور موجودہ ماحول کو زیادہ مثبت نہیں سمجھا جا رہا۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے واضح کیا ہے کہ ایران کسی پر حملہ کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا بلکہ صرف اپنے دفاع کا حق استعمال کر رہا ہے۔ انہوں نے امریکا پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے بنیادی حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

دوسری جانب یمن میں حوثی باغیوں نے بھی ریڈ سی میں بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دے دی ہے، جس سے عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے حوالے سے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس سے خطے میں تنازع مزید پیچیدہ ہو سکتا ہے۔

عالمی سطح پر بھی ردعمل سامنے آ رہا ہے، متحدہ عرب امارات نے آبنائے ہرمز کو عالمی گزرگاہ قرار دیتے ہوئے اسے تنازعات کے لیے استعمال نہ کرنے پر زور دیا ہے۔

پاکستان اس پوری صورتحال میں اہم سفارتی کردار ادا کر رہا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے ایرانی صدر سے ٹیلیفونک رابطہ کر کے خطے میں امن و استحکام کے لیے کوششیں جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا، جبکہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ایرانی ہم منصب سے رابطے میں مسلسل مکالمے کی ضرورت پر زور دیا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ پاکستان کی میزبانی میں ممکنہ مذاکرات خطے میں امن کی امید پیدا کر رہے ہیں، تاہم سخت بیانات، عسکری کشیدگی، اور فریقین کے درمیان عدم اعتماد اس عمل کو غیر یقینی بنائے ہوئے ہیں۔ ایسے میں آنے والے چند دن خطے کے مستقبل کے لیے انتہائی اہم قرار دیے جا رہے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے