اسلام آباد مذاکرات بے نتیجہ، امریکا ایران میں اختلاف برقرار

اسلام آباد: (کیو این این ورلڈ) پاکستان کی ثالثی میں امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے طویل اور اہم مذاکرات کسی حتمی معاہدے کے بغیر اختتام پذیر ہو گئے، تاہم دونوں فریقین نے سفارتی عمل جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے، جبکہ خطے میں کشیدگی اور غیر یقینی صورتحال بدستور برقرار ہے۔

اسلام آباد میں ہونے والے ان مذاکرات میں امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس جبکہ ایرانی وفد کی سربراہی اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کی۔ ذرائع کے مطابق مذاکرات 21 گھنٹوں سے زائد جاری رہے، جن میں دونوں ممالک کے درمیان متعدد اہم اور حساس معاملات پر تفصیلی بات چیت ہوئی اور تکنیکی ماہرین کے درمیان تحریری مسودوں کا تبادلہ بھی کیا گیا۔

مذاکرات کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے پریس بریفنگ میں واضح کیا کہ امریکا اور ایران کسی حتمی معاہدے تک نہیں پہنچ سکے، اور امریکی وفد بغیر کسی ڈیل کے واپس واشنگٹن روانہ ہو گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا نے مذاکرات میں نیک نیتی اور لچک کا مظاہرہ کیا، تاہم ایران نے امریکی شرائط کو تسلیم نہیں کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ امریکا ایران سے واضح یقین دہانی چاہتا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرے گا۔

دوسری جانب ایرانی وفد کے سربراہ محمد باقر قالیباف نے کہا کہ امریکا ایرانی مؤقف اور اصولوں کو سمجھنے کے باوجود اعتماد حاصل کرنے میں ناکام رہا۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے مذاکرات میں مثبت تجاویز پیش کیں، تاہم ماضی کے تجربات کی بنیاد پر ایران کو اب بھی امریکا پر مکمل اعتماد نہیں۔ قالیباف نے پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے پاکستانی عوام کو سلام پیش کیا اور ثالثی کے عمل کو سراہا۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بھی واضح کیا کہ ایک ہی نشست میں کسی جامع معاہدے کی توقع نہیں کی جا سکتی، مذاکرات پیچیدہ تھے اور کئی نئے موضوعات بھی زیر بحث آئے۔ ان کے مطابق آبنائے ہرمز، جوہری پروگرام، جنگی نقصانات کے ازالے، پابندیوں کے خاتمے اور خطے میں جنگ کے مکمل خاتمے جیسے اہم نکات پر بات چیت ہوئی، جن میں سے بعض پر پیش رفت ہوئی تاہم چند اہم معاملات پر اختلاف برقرار رہا۔

پاکستان کی جانب سے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے اس امید کا اظہار کیا کہ امریکا اور ایران جنگ بندی برقرار رکھتے ہوئے مذاکرات کا عمل جاری رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان دونوں ممالک کے درمیان سہولت کاری کا کردار جاری رکھے گا اور خطے میں پائیدار امن کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔

ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کے حوالے سے ملے جلے اشارے دیتے ہوئے کہا کہ معاہدہ ہو یا نہ ہو، انہیں اس سے کوئی خاص فرق نہیں پڑتا، تاہم انہوں نے ایران کے خلاف جنگ میں کامیابی کا دعویٰ بھی دہرایا اور آبنائے ہرمز کی صورتحال پر خدشات ظاہر کیے۔

دوسری طرف اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف مہم ابھی ختم نہیں ہوئی اور مزید اقدامات باقی ہیں، جبکہ لبنان میں اسرائیلی فضائی حملے جاری ہیں جن میں متعدد افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جس سے انسانی بحران مزید سنگین ہوتا جا رہا ہے۔

ایران میں بھی امریکی اور اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں ہزاروں خواتین اور بچوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس پر عالمی سطح پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

اسرائیل کے اندر بھی جنگ کے خلاف احتجاجی مظاہرے شدت اختیار کر گئے ہیں، جبکہ سابق اسرائیلی فوجی حکام نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے جنگی حکمت عملی کو ناکام قرار دیا ہے۔

عالمی برادری بھی متحرک ہو گئی ہے، آسٹریلیا سمیت مختلف ممالک نے امریکا اور ایران پر زور دیا ہے کہ وہ جنگ بندی برقرار رکھتے ہوئے دوبارہ مذاکرات کی میز پر آئیں تاکہ خطے میں استحکام پیدا کیا جا سکے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ اسلام آباد مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے، تاہم سفارتی عمل کا جاری رہنا ایک مثبت پیش رفت ہے، لیکن پیچیدہ تنازعات اور باہمی عدم اعتماد کے باعث کسی بڑے بریک تھرو کے لیے مزید وقت اور سنجیدہ کوششیں درکار ہوں گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے