بلوچستان اور کراچی میں طوفانی بارشوں کی تباہ کاری، بچوں سمیت 18 افراد جاں بحق

کوئٹہ ،کراچی(کیو این این ورلڈ) ملک کے مختلف حصوں بالخصوص بلوچستان اور کراچی میں طوفانی بارشوں اور سیلابی ریلوں نے شدید تباہی مچائی ہے، جس کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت 18 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہو گئے۔

پی ڈی ایم اے بلوچستان کی رپورٹ کے مطابق صوبے کے مختلف اضلاع ہرنائی، کوہلو، تربت، جعفرآباد، لورالائی اور کچھی میں بارشوں اور سیلاب کے باعث 7 افراد لقمہ اجل بنے۔ بالاناڑی میں حفاظتی بند ٹوٹنے سے 100 مکانات تباہ اور 400 ایکڑ زرعی زمین زیر آب آ گئی، جبکہ 50 مویشی بھی سیلابی ریلے میں بہہ گئے۔ ڈی جی پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ ہرنائی اور قلعہ عبداللہ میں بھی درجنوں مکانات کو نقصان پہنچا، جبکہ جھل مگسی میں سیلابی ریلے کے باعث گنداواہ نوتال روڈ ٹریفک کے لیے بند ہو گئی۔

بلوچستان کے شمالی علاقوں کوئٹہ، چمن، قلعہ عبداللہ اور زیارت میں موسلادھار بارش اور ژالہ باری سے سیب، خوبانی، چیری اور بادام کے باغات کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ تحصیل گلستان میں ایک مسافر وین اور ٹرک سیلابی ریلے میں بہہ گئے، تاہم خوش قسمتی سے 12 افراد کو ریسکیو کر لیا گیا۔ بولان اور باجوڑ میں آسمانی بجلی گرنے اور چھتیں گرنے کے واقعات میں مزید 5 افراد جاں بحق ہوئے، جبکہ پنجاب کے ضلع بھکر میں بھی چھت گرنے سے ایک خاتون جاں بحق ہو گئی۔

دوسری جانب کراچی میں تیز ہواؤں کے ساتھ ہونے والی بارش نے نظام زندگی مفلوج کر دیا، جہاں مختلف حادثات میں 6 افراد جاں بحق اور 3 زخمی ہوئے۔ پرانا گولیمار میں دیوار گرنے سے رکشہ ڈرائیور جبکہ نیو کراچی، پی آئی بی کالونی اور سرجانی ٹاؤن میں کرنٹ لگنے کے واقعات میں دو مرد اور ایک بچی جاں بحق ہوئی۔ شارع فیصل اور نارتھ ناظم آباد سمیت کئی اہم شاہراہیں زیر آب آنے سے ٹریفک کی روانی بری طرح متاثر رہی۔

ایم کیو ایم پاکستان نے کراچی کی صورتحال پر سندھ حکومت اور بلدیاتی انتظامیہ کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ درمیانے درجے کی بارش نے نام نہاد ترقیاتی کاموں کی قلعی کھول دی ہے۔ ترجمان کے مطابق اربوں روپے نالوں کی صفائی کے نام پر خرچ کرنے کے دعوے کاغذی ثابت ہوئے اور آج شہر کی شاہراہیں تالاب کا منظر پیش کر رہی ہیں، جس کی تمام تر ذمہ داری قابض بلدیاتی ٹولے پر عائد ہوتی ہے۔

محکمہ موسمیات نے کراچی میں مزید بارشوں اور 60 سے 70 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی کی ہے۔ ترجمان محکمہ موسمیات انجم نذیر کے مطابق مغربی ہواؤں کا سسٹم بارشوں کے لیے سازگار ماحول پیدا کر رہا ہے، واضح رہے کہ کراچی میں اپریل کے مہینے میں سب سے زیادہ 37 ملی میٹر بارش 1985 میں ریکارڈ کی گئی تھی۔ پنجاب کے اضلاع ڈیرہ غازی خان اور راجن پور میں بھی وقفے وقفے سے بارش جاری ہے اور کوہ سلیمان پر بارش کے باعث پہاڑی ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے