ایران کے خلاف مقاصد کی تکمیل تک جنگ جاری رہے گی، آئندہ ہفتوں میں شدید حملوں کا اعلان: ڈونلڈ ٹرمپ

واشنگٹن ( کیو این این ورلڈ) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں کو منطقی انجام تک پہنچانے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے آئندہ دو سے تین ہفتوں میں مزید شدید حملے کرنے کا بڑا اعلان کر دیا ہے۔ قوم سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ جب تک تمام اسٹریٹجک مقاصد حاصل نہیں ہو جاتے، جنگ جاری رہے گی، تاہم انہوں نے دعویٰ کیا کہ جنگ کا مشکل ترین حصہ مکمل ہو چکا ہے اور اب ایران کوئی بڑا خطرہ نہیں رہا۔

صدر ٹرمپ نے گزشتہ چار ہفتوں کی کارروائیوں کو "فیصلہ کن” قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکی فوج نے ایران کی نیوی اور ایئر فورس کو مکمل طور پر مفلوج کر دیا ہے، جبکہ ان کی قیادت اور موجودہ نظام (رجیم) کو بھی ختم کیا جا چکا ہے۔ انہوں نے یہ اہم دعویٰ بھی کیا کہ ایران کی ایٹم بم بنانے کی صلاحیت کو جڑ سے اکھاڑ دیا گیا ہے۔ دورانِ خطاب صدر ٹرمپ نے ایرانی تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا واضح اشارہ دیتے ہوئے دھمکی دی کہ ایران کو "پتھر کے زمانے” میں پہنچا دیں گے۔

امریکی صدر نے جنگ کے دوران 13 امریکی فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق کی اور بغیر کسی شواہد کے ایرانی حکومت پر 45 ہزار مظاہرین کے قتل کا الزام بھی عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 47 سالوں سے جاری "امریکا اور اسرائیل مردہ باد” کے نعروں کا باب اب بند ہونے والا ہے۔ آبنائے ہرمز کے حوالے سے بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے دوٹوک موقف اپنایا کہ امریکہ کو اس آبی گزرگاہ کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ امریکہ اب تیل اور گیس کا دنیا میں نمبر ون پروڈیوسر بن چکا ہے، لہٰذا جن ممالک کو تیل چاہیے وہ یا تو امریکہ سے لیں یا خود آبنائے ہرمز کھلوانے کا انتظام کریں۔

خطاب کے دوران صدر ٹرمپ نے اسرائیل، سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات، کویت اور بحرین کو امریکہ کے "عظیم اتحادی” قرار دیا اور یقین دلایا کہ امریکہ ان ممالک کو کسی بھی صورت ناکام نہیں ہونے دے گا۔ انہوں نے عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کا ذمہ دار ایران کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ وینزویلا کے بعد اب امریکہ کو مشرقِ وسطیٰ کے تیل پر انحصار کرنے کی ضرورت نہیں رہی۔ تقریر کے اختتام پر انہوں نے ناسا کے ‘آرٹیمس مشن’ کی روانگی پر مبارکباد دیتے ہوئے خلابازوں کی بخیر و عافیت واپسی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار بھی کیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے