تہران (کیو این این ورلڈ) ایران کی اعلیٰ قیادت نے واضح کیا ہے کہ جب تک حالیہ حملوں سے ہونے والے نقصانات کا مکمل ازالہ نہیں ہو جاتا، جنگ کا خاتمہ ممکن نہیں۔ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر محسن رضائی نے اپنے بیان میں دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ایران اس وقت تک پیچھے نہیں ہٹے گا جب تک تمام پابندیاں ختم نہیں کر دی جاتیں اور مستقبل میں حملوں کی روک تھام کی عالمی ضمانت نہیں دی جاتی۔
محسن رضائی نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اس بار ایران روایتی جواب تک محدود نہیں رہے گا بلکہ بھرپور ردعمل دیا جائے گا۔ انہوں نے امریکا کو خطے سے نکلنے کا مطالبہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ امریکا اور اسرائیل کے درمیان اختلافات مزید شدت اختیار کریں گے۔
دوسری جانب ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سفارتی سرگرمیاں تیز کرتے ہوئے آذربائیجان، جنوبی کوریا، ترکمانستان اور عمان کے وزرائے خارجہ سے رابطے کیے اور خطے کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔
ایرانی وزیر خارجہ نے ان ممالک کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ہونے والے حملوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والے سکیورٹی اور ماحولیاتی خطرات سے آگاہ کیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ یہ صورتحال نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر بھی اثرات مرتب کر سکتی ہے۔
جنوبی کوریا کے وزیر خارجہ نے آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش کے اقتصادی اثرات پر تشویش کا اظہار کیا، جس پر عباس عراقچی نے مؤقف اختیار کیا کہ اس اہم آبی گزرگاہ میں پیدا ہونے والا عدم تحفظ دراصل امریکا اور اسرائیل کے مبینہ غیر قانونی حملوں کا براہ راست نتیجہ ہے۔
ایرانی حکام کے حالیہ بیانات اور سفارتی رابطے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ایک جانب ایران سخت مؤقف اپنائے ہوئے ہے تو دوسری جانب عالمی سطح پر اپنی پوزیشن واضح کرنے اور حمایت حاصل کرنے کی کوششیں بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔