تہران (کیو این این ورلڈ):ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے آپریشن وعدہ صادق 4 کے تحت اسرائیل اور امریکی اہداف پر میزائل اور ڈرون حملوں کی 57ویں لہر شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق تازہ حملوں میں مختلف جدید بیلسٹک میزائل استعمال کیے گئے اور مقبوضہ علاقوں کے اہم عسکری مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔
پاسدارانِ انقلاب کے بیان کے مطابق یہ کارروائی “یا سید الساجدین علیہ السلام” کے نام کی گئی ہے اور اسے رمضان المبارک میں والدہ کی گود میں شہید ہونے والے شیرخوار بچے مجتبیٰ کے نام منسوب کیا گیا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ حملوں کے دوران مقبوضہ علاقوں کے مرکزی مقامات کو نشانہ بنایا گیا جن میں کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز اور میزائل دفاعی مواصلاتی نظام شامل ہیں۔ اس مقصد کے لیے خیبر شکن، عماد اور قدر بیلسٹک میزائل استعمال کیے گئے۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے مطابق اسی دوران قطر میں واقع العدید ایئر بیس پر بھی میزائل حملہ کیا گیا جہاں امریکی افواج تعینات ہیں۔ اس کارروائی میں ذوالفقار اور قیام درمیانی فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کے ساتھ حملہ آور ڈرونز بھی استعمال کیے گئے۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ یہ حملے جاری ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کے تناظر میں کیے جا رہے ہیں۔ ایران کا مؤقف ہے کہ یہ کارروائیاں فروری 2026 کے آخر میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کی فوجی اور جوہری تنصیبات پر کیے گئے حملوں کے جواب میں کی جا رہی ہیں۔
ایران کی اسلامی انقلابی گارڈز کے مطابق حالیہ حملوں میں جدید بیلسٹک میزائلوں، جن میں خیبر شکن اور قدر کے علاوہ دیگر میزائل شامل ہیں، استعمال کیے گئے۔ ایرانی دعوے کے مطابق خیبر شکن میزائل تقریباً 1450 کلومیٹر تک مار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اسے جدید مناور ایبل وارہیڈ کے ساتھ تیار کیا گیا ہے۔
دوسری جانب اسرائیل اور امریکہ کا کہنا ہے کہ ان کے دفاعی نظاموں نے بیشتر میزائلوں کو فضا میں ہی تباہ کر دیا، جبکہ ایران کے میزائل لانچرز اور اسلحہ کے ذخائر کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔ خطے میں جاری اس کشیدگی کے باعث صورتحال بدستور انتہائی حساس اور غیر یقینی قرار دی جا رہی ہے۔