تہران (کیو این این ورلڈ) ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکہ اور اسرائیل کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر امریکہ جنگ میں شدت لانا چاہتا ہے تو ایران نے بھی اس کے لیے طویل المدتی تیاری کر رکھی ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے اپنی جنگی جنون میں امریکہ کو بری طرح پھنسا دیا ہے، جس کے نتیجے میں محض ایک ہفتے کی جنگ کے دوران امریکہ کے 100 ارب ڈالر خرچ ہو چکے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ وہ اپنے سعودی ہم منصب کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں اور سعودی حکام نے انہیں مکمل یقین دہانی کرائی ہے کہ ایران کے خلاف اپنی سرزمین کسی صورت استعمال نہیں ہونے دیں گے۔ عباس عراقچی نے جزیرہ قشم پر پانی صاف کرنے والے پلانٹ پر امریکی حملے کو سنگین جرم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس بزدلانہ کارروائی سے 30 دیہات میں پانی کی فراہمی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے سویلین انفراسٹرکچر پر حملہ ایک انتہائی خطرناک اقدام ہے جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایرانی وزیر خارجہ کے مطابق امریکہ کی جانب سے جنگ کو طول دینے کی کوششیں خطے کے امن کو تباہ کر رہی ہیں، تاہم ایران اپنے دفاع کے لیے ہر سطح پر تیار ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران کے قومی اثاثوں اور عوامی سہولیات کو نشانہ بنانے کی پالیسی دشمن کو مہنگی پڑے گی۔
عالمی مبصرین وزیر خارجہ عباس عراقچی کے اس بیان کو ایران کی جانب سے خطے میں نئے سفارتی اور عسکری توازن کی کوشش قرار دے رہے ہیں۔ ایران نے واضح کر دیا ہے کہ وہ پڑوسی ممالک کے ساتھ تعاون بڑھا کر امریکی و اسرائیلی دباؤ کا مقابلہ کرنے کے لیے پرعزم ہے۔