تہران (کیو این این ورلڈ) مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے ملک کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرنے والے متعدد امریکی اور اسرائیلی ڈرونز کو مار گرایا ہے۔ ایرانی حکام کی جانب سے صوبہ لورستان میں ایک امریکی MQ-9 ریپر ڈرون اور دارالحکومت تہران کے نواحی علاقے میں ایک اسرائیلی ہرمس ڈرون کو تباہ کرنے کی تصاویر بھی میڈیا کے لیے جاری کر دی گئی ہیں۔
ایرانی فوجی ذرائع کے مطابق گزشتہ ایک ہفتے سے جاری امریکی اور اسرائیلی کارروائیوں کے جواب میں اب تک 75 سے زائد ڈرونز گرائے جا چکے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں ہائی الرٹ پر موجود فضائی دفاعی نظام دشمن کے کسی بھی طیارے یا بغیر پائلٹ کے طیارے کو نشانہ بنانے کے لیے پوری طرح فعال ہے۔ ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر حملے نہ رکے تو اس کی فوجی کارروائیاں آئندہ دنوں میں مزید سخت اور وسیع ہو سکتی ہیں۔
دوسری جانب ایرانی میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ جنوبی شہر شیراز کے ایک رہائشی علاقے پر امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملے کے نتیجے میں کم از کم 20 افراد شہید ہو گئے ہیں۔ ان حملوں میں شہری املاک کو بھی شدید نقصان پہنچنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ ایرانی قیادت نے ان حملوں کو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔
اسرائیلی فوج نے بھی اپنی تازہ ترین کارروائیوں کی تفصیلات جاری کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے رات بھر کی کارروائیوں میں ایران کے 6 بیلسٹک میزائل لانچرز اور 3 جدید فضائی دفاعی نظاموں کو تباہ کر دیا ہے۔ اسرائیلی حکام کے مطابق یہ حملے ایران کی عسکری صلاحیت کو کمزور کرنے کے لیے کیے جا رہے ہیں تاکہ سرحدی خطرات کو روکا جا سکے۔
دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان براہِ راست عسکری جھڑپوں نے پورے مشرقِ وسطیٰ میں ایک بڑے تصادم کا خطرہ پیدا کر دیا ہے۔ اس صورتحال کے باعث نہ صرف عالمی سلامتی بلکہ عالمی معیشت اور تیل کی سپلائی پر بھی گہرے منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔