راولپنڈی (کیو این این ورلڈ) پاک افغان سرحد پر افغان طالبان کی بلا اشتعال جارحیت کے خلاف افواجِ پاکستان نے "آپریشن غضب للحق” کے تحت فیصلہ کن زمینی و فضائی کارروائیوں کا آغاز کر دیا ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک فوج نے دشمن کی اشتعال انگیزی کا مؤثر جواب دیتے ہوئے سرحدی علاقوں میں دہشت گردوں کے متعدد ٹھکانوں کو نیست و نابود کر دیا ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاک افغان سرحد پر واقع کرم سیکٹر میں پاک فوج نے انتہائی کامیاب کارروائی کی، جس کے نتیجے میں افغان طالبان کی متعدد پوسٹیں تباہ ہو گئیں۔ پاک فوج کی اس اچانک اور بھرپور کارروائی کے باعث افغان طالبان اپنی پوسٹیں چھوڑ کر فرار ہونے پر مجبور ہو گئے اور انہیں بھاری جانی و مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
کارروائیوں کا دائرہ کار بڑھاتے ہوئے پاک فوج نے ژوب سیکٹر اور قلعہ سیف اللہ سیکٹر سے ملحقہ سرحد پر بھی دہشت گردوں کے خفیہ ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ فضائی اور زمینی حملوں کے نتیجے میں فتنہ الخوارج اور ان کے سہولت کاروں کی پناہ گاہیں تباہ کر دی گئی ہیں، جس سے سرحد پار موجود شرپسند عناصر کی دفاعی لائن بری طرح متاثر ہوئی ہے۔
حکام کے مطابق آپریشن غضب للحق کے تحت پاک فوج کی مؤثر حکمت عملی نے دشمن کو پسپائی پر مجبور کر دیا ہے۔ پاک فوج کے جوان سرحدوں پر ہائی الرٹ ہیں اور کسی بھی قسم کی دراندازی یا جارحیت کا فوری اور سخت جواب دیا جا رہا ہے۔ آپریشن کی بدولت دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو شدید دھچکا پہنچا ہے۔
سیکیورٹی حکام نے واضح کیا ہے کہ آپریشن غضب للحق تاحال پوری قوت کے ساتھ جاری ہے اور یہ اس وقت تک ختم نہیں ہوگا جب تک تمام متعین کردہ اہداف حاصل نہیں کر لیے جاتے۔ پاکستان کی مسلح افواج وطنِ عزیز کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے پرعزم ہیں اور سرحدوں کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔