لاہور (کیو این این ورلڈ) حکومت پنجاب نے صوبے کے 439 بلدیاتی اداروں کی نئی حد بندیوں اور ان کی باقاعدہ تشکیل کے حوالے سے نوٹیفکیشنز جاری کر دیے ہیں۔ اس اقدام کے ساتھ ہی پنجاب میں بلدیاتی اداروں کی تعداد میں ریکارڈ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کا مقصد نچلی سطح پر اختیارات کی منتقلی کو یقینی بنانا ہے۔

پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013ء کے تحت پہلے صوبے میں بلدیاتی اداروں کی کل تعداد 229 تھی، جن میں 182 میونسپل کمیٹیاں اور 11 میونسپل کارپوریشنز شامل تھیں۔ نئے نوٹیفکیشنز میں ان اداروں کی نئی حیثیت، ناموں کی تبدیلی اور حدود کا مکمل تعین کر دیا گیا ہے تاکہ انتظامی امور میں آسانی پیدا ہو سکے۔

حکومت کی جانب سے ان تمام تر تبدیلیوں کی تفصیلات الیکشن کمیشن آف پاکستان کو بھی فراہم کر دی گئی ہیں۔ قانونی طریقہ کار کے مطابق اب ان حد بندیوں پر عوامی اعتراضات سنے جائیں گے اور دیگر ضروری تقاضے پورے کرنے کے بعد حتمی گزٹ نوٹیفکیشن جاری کیا جائے گا، جس کے بعد انتخابی عمل کی راہ ہموار ہوگی۔

نئے بلدیاتی اداروں کی باقاعدہ تشکیل کے بعد اختیارات اور اثاثہ جات کی منتقلی کا مرحلہ شروع کیا جائے گا۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ان اداروں کو فعال بنانے سے بلدیاتی مسائل کے حل میں تیزی آئے گی اور شہری سہولیات کی فراہمی براہِ راست عوامی نمائندوں کے ذریعے ممکن ہو سکے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے