واشنگٹن (کیو این این ورلڈ) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف سخت ترین موقف اپناتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی انتظامیہ سب سے پہلے ایران کو ختم کرنا چاہتی ہے اور اس لڑائی میں امریکہ ایران سے کہیں زیادہ سنجیدہ ہے۔ انہوں نے ایرانی سفارتکاروں سے اپیل کی ہے کہ وہ پناہ حاصل کر لیں۔
واشنگٹن میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایرانی بحریہ کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا ہے اور اب ایران کی میزائل و ڈرون صلاحیتوں کو ختم کرنے کا عمل جاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فوجی آپریشن شیڈول کے مطابق آگے بڑھ رہا ہے اور امریکہ کے پاس ایران پر حملہ کرنے کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں بچا تھا۔
صدر ٹرمپ نے ایران کے مستقبل کے حوالے سے بات کرتے ہوئے واضح کیا کہ ایران کا اگلا رہنما امریکہ طے کرے گا اور اس سلسلے میں وینزویلا جیسی حکمت عملی اپنائی جائے گی۔ انہوں نے ایرانی قیادت کو خبردار کیا کہ اگر انہوں نے اپنا جانشین مقرر کرنے کی کوشش کی تو وہ اپنا وقت ضائع کریں گے کیونکہ امریکہ کسی ایسے لیڈر کو قبول نہیں کرے گا جو موجودہ پالیسیوں کو جاری رکھے۔
امریکی صدر نے خاص طور پر مجتبیٰ خامنہ ای کا نام لیتے ہوئے انہیں ناقابل قبول قرار دیا اور کہا کہ امریکہ جلد ایسے اقدامات کرے گا جس سے عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں کا دباؤ کم ہو سکے۔ ان کے اس بیان نے خطے میں سیاسی اور عسکری تناؤ کو ایک نئی نہج پر پہنچا دیا ہے۔