مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی شدت اختیار کر گئی ہے۔ ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے بعد ایران نے خلیجی ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے کی تصدیق کر دی ہے، جبکہ متعدد ممالک نے اپنی فضائی حدود جزوی یا مکمل طور پر بند کر دی ہیں۔
ایرانی حکام کے مطابق العدید ایئربیس (قطر)، السلیم ایئربیس (کویت)، الدفرا ایئربیس (متحدہ عرب امارات) اور نیول سپورٹ ایکٹیویٹی بحرین کو میزائل حملوں میں نشانہ بنایا گیا۔ قطری حکام کے مطابق ایئر ڈیفنس سسٹم نے متعدد میزائل فضا میں تباہ کر دیے جبکہ شہریوں کو فوجی تنصیبات سے دور رہنے اور محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت کی گئی۔ متحدہ عرب امارات کی سرکاری خبر ایجنسی کے مطابق ایک شخص ہلاک ہوا جبکہ کئی میزائل روکے گئے۔ اماراتی حکومت نے حملے کو قومی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے جواب دینے کا حق محفوظ رکھا ہے اور سکیورٹی صورتحال کے پیش نظر فضائی حدود جزوی طور پر بند کر دی گئی ہیں۔ بحرین کے دارالحکومت منامہ میں دھماکوں کے بعد سائرن بجا دیے گئے اور امریکی بحری بیڑے کے ہیڈکوارٹر کے قریب حملے کی تصدیق کی گئی ہے۔
برطانیہ کی حکومت نے واضح کیا ہے کہ وہ ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملے میں شامل نہیں ہے۔ برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر نے صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے کوبرا میٹنگ طلب کر لی ہے۔ برطانوی حکومت کا کہنا ہے کہ ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے اور کشیدگی میں مزید اضافے سے گریز ضروری ہے، جبکہ خطے میں موجود برطانوی شہریوں کی حفاظت اولین ترجیح ہے۔
غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق ایک اسرائیلی عہدیدار نے دعویٰ کیا ہے کہ حملے میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور ایرانی صدر کو نشانہ بنایا گیا، تاہم نتائج غیر واضح ہیں۔ ایرانی فوجی حکام نے اس حوالے سے تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے جبکہ ایرانی ذرائع کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کے چند سینئر کمانڈرز اور سیاسی شخصیات ہلاک ہوئے ہیں۔
ریاض میں بھی دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں جبکہ دبئی کے علاقے مارینا میں دھماکے کی اطلاعات ہیں۔ کویت میں ایرانی میزائلوں کو فضا میں تباہ کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے اور مختلف علاقوں میں جنگی سائرن بجائے جا رہے ہیں۔ روس نے ایران اور اسرائیل کے لیے اپنی پروازیں معطل کر دی ہیں جبکہ متعدد ممالک پہلے ہی اپنے شہریوں کو خطہ چھوڑنے کی ہدایات جاری کر چکے تھے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران اپنا دفاع جاری رکھے گا اور خطے میں موجود تمام امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ ایرانی نیشنل سکیورٹی کمیشن کے سربراہ نے اسرائیل کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ نتائج ان کے اختیار میں نہیں ہوں گے۔ دوسری جانب انصار اللہ (حوثی تحریک) نے اسرائیل اور سمندری راستوں پر جہازوں کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا ہے، جس سے بحری راستوں کی سکیورٹی بھی خطرے میں پڑ گئی ہے۔
امریکی وزارت دفاع نے ایران کے خلاف جاری آپریشن کو “Epic Fury” کا نام دیا ہے اور عندیہ دیا ہے کہ کارروائیاں مزید جاری رہ سکتی ہیں۔ موجودہ صورتحال میں ایران، اسرائیل اور امریکا کے درمیان براہِ راست تصادم جاری ہے، خلیجی ممالک میں امریکی فوجی تنصیبات نشانہ بنائی جا رہی ہیں اور عالمی برادری کشیدگی میں کمی اور سفارتی حل پر زور دے رہی ہے، تاہم خطے میں وسیع علاقائی جنگ کے خدشات بڑھتے جا رہے ہیں۔