تہران/تل ابیب (کیو این این ورلڈ) امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر وسیع حملوں کے بعد خطہ شدید کشیدگی کی لپیٹ میں آ گیا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق ابتدائی حملوں میں تہران سمیت مختلف شہروں میں تقریباً 30 مقامات کو سمندر اور فضا سے میزائلوں کا نشانہ بنایا گیا، جبکہ ایران نے “فتح خیبر” کے نام سے جوابی کارروائی کرتے ہوئے اسرائیل پر بیلسٹک میزائل اور ڈرون داغ دیے، جس کے نتیجے میں اسرائیلی شہر دھماکوں سے گونج اٹھے۔

ایرانی میڈیا کے مطابق امریکی و اسرائیلی حملوں میں آیت اللہ علی خامنہ ای کے مرکزی دفتر کے قریب علاقوں اور صدارتی دفتر کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ تہران، اصفہان، قم، کرج، کرمان شاہ اور تبریز سمیت متعدد شہروں میں دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ جنوبی تہران میں وزارتوں کے دفاتر، انٹیلی جنس کی وزارت اور مہرآباد ایئرپورٹ کو بھی نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا۔ ایرانی حکام کے مطابق رہبرِ اعلیٰ اور صدر محفوظ ہیں اور انہیں محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل نے مذاکراتی عمل کے دوران حملہ کر کے بین الاقوامی اصولوں کی خلاف ورزی کی۔ ایران نے اعلان کیا کہ خطے میں موجود تمام امریکی فوجی اڈے اس کی پہنچ میں ہیں اور اگر حملے جاری رہے تو ہر امریکی اڈے کو نشانہ بنایا جائے گا۔

ایران نے اسرائیل کے خلاف “فتح خیبر” کے نام سے جوابی کارروائی کا آغاز کیا اور 75 بیلسٹک میزائل داغنے کا دعویٰ کیا۔ عرب میڈیا کے مطابق شمالی اسرائیل اور تل ابیب میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں جبکہ پورے ملک میں سائرن بج اٹھے۔ مقبوضہ بیت المقدس میں بھی دھماکوں کی اطلاعات ملیں۔

اسرائیلی حکام نے ملک بھر میں اسکول بند کر دیے، عوامی اجتماعات پر پابندی لگا دی اور شہریوں کو زیر زمین بنکرز میں رہنے کی ہدایت کی ہے۔ اسرائیلی وزیر دفاع نے دعویٰ کیا کہ ایران کے خلاف “حفاظتی حملہ” کیا گیا ہے اور ملک میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔

عرب نشریاتی اداروں کے مطابق کویت، قطر، بحرین، ابوظہبی اور دبئی میں بھی دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ بحرین میں امریکی نیوی کے پانچویں بیڑے کے سروس سینٹر کو میزائل حملے کا نشانہ بنانے کی تصدیق کی گئی ہے۔ خلیجی ممالک نے اپنی فضائی حدود بند کر دی ہیں جبکہ امریکی سفارتی عملے کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے۔

فارس نیوز کے مطابق خطے میں موجود تمام امریکی اڈے ایرانی میزائلوں کی پہنچ میں ہیں۔ ایرانی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ نے کہا کہ امریکا کو پہلے ہی خبردار کیا گیا تھا اور اب حالات اس کے کنٹرول سے باہر ہو سکتے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ ایران کے خلاف بڑا فوجی آپریشن شروع کر دیا گیا ہے جو کئی دن جاری رہ سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مقصد امریکی عوام کی سکیورٹی یقینی بنانا اور ایران کے جوہری پروگرام سے لاحق خطرات کو ختم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی اور اگر ایرانی پاسداران انقلاب ہتھیار ڈال دیں تو ان کے ساتھ اچھا سلوک کیا جائے گا۔

امریکی حکام کے مطابق یہ مشترکہ فضائی آپریشن ایران کے سکیورٹی ڈھانچے اور میزائل پروگرام کو نشانہ بنانے کے لیے کیا گیا ہے، جبکہ اسرائیلی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس آپریشن کی منصوبہ بندی کئی ماہ قبل کی گئی تھی۔

ایران میں ہسپتالوں کو الرٹ کر دیا گیا ہے، انٹرنیٹ اور فون سروس معطل ہو چکی ہے جبکہ اسٹاک مارکیٹ میں ٹریڈنگ روک دی گئی ہے۔ شہری بڑی تعداد میں تہران چھوڑنے لگے ہیں اور پٹرول پمپوں پر رش کی اطلاعات ہیں۔ عراق اور ایران دونوں نے اپنی فضائی حدود بند کر دی ہیں۔

دوسری جانب پاکستان کی وزارت خارجہ نے اپنے شہریوں کو ایران کا سفر مؤخر کرنے اور وہاں مقیم پاکستانیوں کو احتیاط برتنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔

واضح رہے کہ ایک روز قبل امریکا اور ایران کے درمیان جنیوا میں مذاکرات ہوئے تھے اور بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا تھا، تاہم حالیہ حملوں کے بعد خطے میں ایک بڑے تصادم کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے