اسلام آباد: (کیو این این ورلڈ) وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چودھری نے کہا ہے کہ افغانستان بھارت کی پراکسی کے طور پر کام کر رہا ہے اور افغان طالبان رجیم کی بلا اشتعال فائرنگ کا پاکستان بھرپور جواب دے رہا ہے۔

نجی ٹی وی سے گفتگو میں وفاقی وزیر نے واضح کیا کہ پاکستان اپنے دفاع کا حق رکھتا ہے اور مسلح افواج کے جوان بلا امتیاز منہ توڑ کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ افغان طالبان کی جانب سے سرحدی خلاف ورزیوں اور دہشت گردانہ کارروائیوں کی ذمہ داری افغانستان کی حکومت پر عائد ہوتی ہے، جو بھارت کے اشاروں پر حرکت کر رہی ہے۔

طارق فضل چودھری نے مزید کہا کہ پاکستان نے افغان دہشت گردی کے خلاف ہر فورم پر احتجاج ریکارڈ کرایا، لیکن افغان طالبان رجیم نے کبھی دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانوں پر کارروائی نہیں کی۔ انہوں نے بتایا کہ افغانستان نے پاکستان سے 10 ارب مانگے لیکن کوئی ضمانت دینے کے لیے تیار نہیں تھا، جس سے واضح ہوتا ہے کہ افغان حکومت بھارت کی پراکسی کے طور پر کام کر رہی ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا، "بھارت افغانستان کو استعمال کر رہا ہے، افغانستان ہوش کے ناخن لے اور دہشت گردوں پر قابو پائے۔ ہم نے بھارت کو 10 مئی کو عبرتناک شکست دی، دھول چٹائی، اور اب وہ افغانستان کے ذریعے بزدلانہ کارروائیوں کو سپانسر کر رہا ہے۔”

طارق فضل چودھری نے کہا کہ پوری دنیا میں وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کی تعریفیں ہو رہی ہیں، جسے بھارت ہضم نہیں کر سکا اور اب وہ افغانستان کے ذریعے پاکستان کے خلاف اقدامات کر رہا ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ پاکستان بھارت کے اس کردار کو مزید بے نقاب کرے گا اور عالمی سطح پر اس کے اقدامات کو واضح کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے