اسلام آباد(کیو این این ورلڈ) بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی نے اسرائیلی پارلیمنٹ Knesset سے خطاب میں کہا کہ شہریوں کا قتل کسی صورت جائز نہیں اور انسانی جانوں کے تحفظ کے اصول ہر جگہ لاگو ہونے چاہئیں۔ انہوں نے اس موقع پر عالمی قیادت اور بین الاقوامی برادری سے امن قائم رکھنے اور انسانی حقوق کے تحفظ پر زور دیا۔
تاہم وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے اس بیان کو زمینی حقائق کے تناظر میں کھوکھلا اور منافقانہ قرار دیا۔ طارق فضل چوہدری کا کہنا تھا کہ مودی کے بیانات اور عملی اقدامات کے درمیان شدید تضاد ہے، کیونکہ غزہ میں جاری پالیسیوں اور فوجی کارروائیوں کی حمایت نے بڑے پیمانے پر شہری المیے کو جنم دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ غزہ میں تباہ شدہ علاقے، خوراک کی شدید قلت، ناکافی طبی سہولیات اور بار بار کی کشیدگی عالمی برادری کے لیے واضح اشارہ ہیں کہ محض بیانات کافی نہیں، عملی اقدامات کی اشد ضرورت ہے۔
وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ انسانی حقوق اور شہریوں کے تحفظ کے اصول کسی خطے یا سیاسی مفاد کے تابع نہیں ہونے چاہئیں۔ اگر عالمی قیادت واقعی امن اور انصاف کی داعی ہے تو اسے ہر جگہ یکساں مؤقف اختیار کرنا ہوگا، چاہے اس کے لیے سفارتی یا معاشی مفادات پر نظرِثانی کرنی پڑے۔
طارق فضل چوہدری نے زور دیا کہ دنیا کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ آیا وہ قلیل مدتی سیاسی اور تزویراتی فوائد کو ترجیح دے گی یا عالمی انصاف، انسانی وقار اور پائیدار امن کے اصولوں پر قائم رہے گی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ شہری جانوں کے تحفظ کو ہر حال میں اولین ترجیح دی جائے اور تنازعات کے حل کے لیے سنجیدہ اور غیر جانبدارانہ سفارتی کوششیں تیز کی جائیں۔