اسلام آباد (کیو این این ورلڈ) وزیر اعظم شہباز شریف کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے سینیٹ اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ پاکستان نے افغانستان کو دہشت گردوں اور پاکستان میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنے کا پیغام دیا تھا، بات سمجھ نہ آنے پر ہی ردعمل دیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جو پالیسی آج اپنائی گئی ہے، اسے برسوں پہلے اپنانا چاہیے تھا، اگر چند سال قبل یہ فیصلہ کر لیا جاتا تو آج دہشت گردی کا نام و نشان نہ ہوتا۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ جب بھی افغانستان کی سرزمین سے پاکستان پر حملے ہوں گے، بھرپور رسپانس دیا جائے گا۔ رانا ثنا اللہ نے پی ٹی آئی قیادت کو بھی ریاست کے ساتھ کھڑے ہونے اور دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کی حمایت کرنے کا مشورہ دیا۔
بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے حوالے سے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ حکومت کے پاس نہ کوئی ‘ڈھیل’ ہے اور نہ ہی کوئی ‘ڈیل’۔ انہوں نے بتایا کہ عمران خان کا بہترین طبی معائنہ کیا گیا ہے جسے ڈاکٹرز نے بھی درست قرار دیا ہے، اس لیے اس معاملے پر سیاست نہیں ہونی چاہیے۔ رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ حکومت ملک کی بہتری کے لیے اپوزیشن کے ساتھ بیٹھنے اور معاملات کو جمہوری انداز میں حل کرنے کے لیے تیار ہے، لیکن پی ٹی آئی مسلسل سیاسی عمل کا حصہ بننے سے انکاری ہے۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ جو مذاکرات کرنا چاہتے ہیں آپ ان سے بات نہیں کرتے اور جو نہیں کرنا چاہتے انہیں آپ نے درخواستیں دی ہوئی ہیں۔
سوشل میڈیا اور فائر وال کے حوالے سے مشیر سیاسی امور نے کہا کہ ملک کو سوشل میڈیا کی یلغار سے محفوظ رکھنے کے لیے 40 ارب یا 400 ارب روپے بھی لگیں تو لگائے جائیں گے، اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا۔ اگر فائر وال فیل ہوئی تو اسے دوبارہ بنایا جائے گا کیونکہ پوری دنیا میں ممالک خود کو اس طرح کی یلغار سے محفوظ رکھتے ہیں۔ پنجاب حکومت کے طیارے کی خریداری پر تنقید کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ طیارہ کسی کی ذاتی ملکیت نہیں بلکہ پنجاب کا اثاثہ ہے جسے 25 سے 30 سال بعد جدید ٹیکنالوجی سے لیس طیارے سے ری پلیس کیا گیا ہے، اس پر پروپیگنڈا کرنا بلاجواز ہے۔