واشنگٹن(کیو این این ورلڈ) امریکی خلائی ادارے ناسا نے اپنے تاریخی ‘آرٹیمس مشن’ کی لانچنگ کے لیے 6 مارچ کی تاریخ کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے، جس کے تحت 50 برس سے زائد عرصے بعد پہلی بار انسانوں کو دوبارہ چاند کی جانب بھیجا جا رہا ہے۔ اس اہم مہم میں چار خلا نورد شامل ہوں گے جو 10 روزہ طویل سفر کے دوران چاند کے پچھلے حصے کا چکر لگا کر زمین پر واپس آئیں گے۔ ناسا کے مطابق یہ مشن ان سلسلہ وار مہمات کی پہلی کڑی ہے جس کا حتمی مقصد انسانوں کو ایک بار پھر چاند کی سطح پر اتارنا اور وہاں مستقل سائنسی اڈہ قائم کرنا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ مشن نہ صرف چاند کی تحقیق میں اہم ثابت ہوگا بلکہ مستقبل میں مریخ کی جانب انسانی سفر کے لیے ایک لانچ پیڈ کی بنیاد بھی فراہم کرے گا۔ ناسا اس مشن کے ذریعے نئی خلائی ٹیکنالوجی اور انسانی برداشت کا امتحان لے گا تاکہ گہرے خلا میں طویل مدتی قیام کو ممکن بنایا جا سکے۔ 1972 کے اپالو مشن کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ انسانی قدم دوبارہ چاند کی حدود میں داخل ہوں گے، جس پر پوری دنیا کے سائنسدانوں اور خلائی تحقیق کے شوقین افراد کی نظریں جمی ہوئی ہیں۔