غربت، مہنگائی اور واپڈا گردی۔ حقیقت کیا ہے؟
تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفےٰ بڈانی
پاکستان میں غربت کی شرح میں اضافہ محض اعداد و شمار کا کھیل نہیں، بلکہ ہر گھر کی حقیقی زندگی میں نظر آنے والی تلخ حقیقت ہے۔ حالیہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 25 کروڑ کی آبادی میں سے 7 کروڑ افراد غربت کا شکار ہیں، اور غربت کی شرح 28.9 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ دیہی علاقوں میں یہ شرح 36.2 فیصد، شہری علاقوں میں 17.4 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ بلوچستان میں 47 فیصد، خیبر پختونخوا میں 35.3 فیصد، سندھ میں 32.6 فیصد اور پنجاب میں 23.3 فیصد تک جا پہنچی۔ معاشی عدم مساوات بھی 32.7 فیصد کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے، جو ملک میں سماجی و اقتصادی تقسیم کی سنگینی کو ظاہر کرتی ہے۔
وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق، پالیسیوں کے عدم تسلسل، کورونا وبا، آئی ایم ایف پروگراموں، روپے کی قدر میں کمی اور مہنگائی نے غربت میں اضافہ کیا ہے۔ یہ وجوہات درست ہیں، مگر عام آدمی کے لیے سب سے فوری اور نمایاں سبب بجلی کے بڑھتے ہوئے بل اور غیر منصفانہ سلیب سسٹم ہیں، جس نے لاکھوں گھرانوں کی زندگی کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔
سلیب سسٹم بظاہر کم استعمال کرنے والے صارفین کو ریلیف دینے کے لیے بنایا گیا تھا، مگر عملی طور پر یہ ایک ایسا بوجھ بن چکا ہے جو ایک بار لٹک جائے تو مہینوں نہیں ہٹتا۔ مثال کے طور پر، گرمیوں میں اگر کسی گھر کا میٹر 200 یونٹ سے کچھ اوپر چلا جائے، تو اگلے مہینوں میں بھی بھاری ریٹ لاگو رہتے ہیں، جس سے بل سینکڑوں روپے سے ہزاروں میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ سردیوں میں کھپت کم ہونے کے باوجود سلیب وہی رہتا ہے۔ فروری میں صرف 50 یونٹ بجلی استعمال ہونے کے باوجود بل 1659 روپے آیا۔ یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ نظام صارف کو بچت کی ترغیب دیتا ہے یا اسے مزید غریب بناتا ہے؟
حکومت قابل تجدید توانائی کی حوصلہ افزائی کرتی ہے، مگر عملی صورت حال اس کے برعکس ہے۔ کئی گھرانوں نے بچوں کی ضروریات کم کر کے، قرض لے کر یا اپنی جمع پونجی خرچ کر کے سولر پینلز لگائے تاکہ بجلی کے بلوں سے نجات ملے، مگر نیٹ میٹرنگ اور دیگر پالیسی تبدیلیوں کے ذریعے سولر سے پیدا ہونے والی بجلی پر بھی چارجز عائد کر دیے گئے۔ عوام یہ پوچھنے پر مجبور ہیں کہ اگر وہ خود بجلی پیدا کریں تو بھی مکمل ریلیف کیوں نہیں؟ کیا پالیسیوں کا مقصد عوام کی سہولت ہے یا ریونیو بڑھانا؟
توانائی کے شعبے میں ایک اور بڑا مسئلہ انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسرز (آئی پی پیز) سے کیے گئے معاہدے ہیں، جن کے تحت بجلی پیدا ہو یا نہ ہو، کیپیسٹی چارجز ڈالرز میں ادا کیے جاتے ہیں۔ روپے کی قدر میں کمی نے یہ ادائیگیاں مزید مہنگی کر دی ہیں اور یہ بوجھ براہِ راست صارفین کے بلوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ 2024 میں کیپیسٹی پیمنٹس 2.1 ٹریلین روپے تک پہنچ گئی تھیں، اور اگلے سال یہ 33 فیصد مزید بڑھنے کی توقع ہے۔ یہ چارجز بجلی کی اوسط لاگت کا تقریباً 65 فیصد ہیں، جو عوام پر اضافی بوجھ ڈالتے ہیں۔
ڈسکوز (تقسیم کار کمپنیوں) کی ناکامیاں، لائن لاسز، بجلی چوری اور انتظامی کوتاہی بھی ایماندار صارفین پر ڈال دی جاتی ہیں۔ علاوہ ازیں، ڈسکوز کے ملازمین کو دی جانے والی لاکھوں کے مفت یونٹس بھی عوامی خزانے سے ادا ہوتے ہیں، جبکہ کروڑوں لوگ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ ایسے میں یہ مراعات کس حد تک جائز ہیں؟
بجلی صرف ایک یوٹیلیٹی نہیں، بلکہ معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ مہنگی بجلی سے صنعت کی لاگت بڑھتی ہے، پیداوار کم ہوتی ہے، روزگار کے مواقع محدود ہوتے ہیں اور مہنگائی مزید بڑھ جاتی ہے۔ یہ ایک منفی چکر ہے جس میں کم آمدنی والا طبقہ سب سے زیادہ متاثر ہوتا ہے۔ جب گھر کا بڑا حصہ بجلی کے بل میں ضائع ہو جائے تو تعلیم، صحت اور خوراک پر خرچ کم ہوتا ہے، اور غربت محض اعداد و شمار کی بجائے حقیقی زندگی کی تلخ حقیقت بن جاتی ہے۔
غربت کے خاتمے کے لیے محض بیانات کافی نہیں۔ توانائی کے شعبے میں شفاف اصلاحات، سلیب سسٹم کا ازسرِ نو جائزہ، آئی پی پیز کے معاہدوں پر نظرثانی، ڈسکوز کی کارکردگی بہتر بنانا اور غیر ضروری مراعات کا خاتمہ ناگزیر ہے۔ قابل تجدید توانائی کو حقیقی معنوں میں فروغ دینا اور چھوٹے صارفین کو تحفظ فراہم کرنا ہوگا۔ اگر حکومت واقعی غربت کم کرنا چاہتی ہے تو بجلی کا نظام عوام دوست ہونا چاہیے۔ ورنہ، جب بل چولہا بجھا دے تو ترقی کے دعوے محض کاغذی رہ جائیں گے۔
اب عوام صبر کی حد سے نکل چکے ہیں اور غصے سے بھرے ہوئے ہیں۔ وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری کے الفاظ اور کیلکولیٹر کی جادوگری مزید برداشت کے قابل نہیں ہیں۔ عوام وزیراعظم پاکستان میاں شہباز شریف، چیف آف ڈیفنس سٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور صدر پاکستان آصف علی زرداری سے اپیل کرتے ہیں کہ خدارا ! اب آپ تینوں بڑے مداخلت کریں، اس غصیلے وزیر سے پاکستانی عوام کی جان چھڑائیں۔ عوام چاہتے ہیں کہ حقیقت پر مبنی بجلی کے نرخوں کی پالیسیاں بنائی جائیں اور دکھی عوام کے لیے فوری ریلیف فراہم کیا جائے۔ اگر یہ اقدامات نہ کیے گئے، تو عوام کا غصہ صرف ناراضگی میں نہیں بلکہ ایک حقیقی سماجی اور سیاسی دباؤ میں تبدیل ہو جائے گا۔
حکمرانوں کے لیے یہ واضح پیغام ہے کہ عوام کی محنت اور پسینے کا احترام کریں، ورنہ ان کی برداشت ختم ہو چکی ہے اور اب کوئی اور انتظار نہیں کرے گا۔
