جدہ (کیو این این ورلڈ) اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) نے اسرائیل کی حمایت میں دیے گئے امریکی سفیر کے اشتعال انگیز بیان کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
او آئی سی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اس نوعیت کے بیانات نہ صرف خطے میں کشیدگی کو بڑھا سکتے ہیں بلکہ انتہا پسندی کو بھی ہوا دیتے ہیں۔ تنظیم کے مطابق ایسے بیانات اسرائیل کو خطے میں اپنے اقدامات جاری رکھنے اور فلسطینی علاقوں پر قبضے کو مزید وسعت دینے کی حوصلہ افزائی فراہم کرتے ہیں، جو فلسطینی عوام کے بنیادی حقوق پر ڈاکا ڈالنے کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ اسرائیل کا موجودہ طرز عمل خطے کی سلامتی اور استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ او آئی سی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ فلسطینی عوام کے جائز اور ناقابلِ تنسیخ حقوق کی حمایت جاری رکھی جائے گی، اور ایک آزاد و خود مختار فلسطینی ریاست کا قیام ان کا بنیادی حق ہے۔
دوسری جانب سعودی عرب نے بھی اسرائیل میں تعینات امریکی سفیر کے متنازع بیان کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی ہے۔ سعودی وزارت خارجہ کے جاری بیان میں کہا گیا کہ ایسے غیر ذمہ دارانہ بیانات نہ صرف بین الاقوامی قوانین اور اصولوں کے منافی ہیں بلکہ خطے کے امن و استحکام کے لیے بھی خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔
سعودی عرب نے اس معاملے پر امریکی محکمہ خارجہ سے وضاحت طلب کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ بیان کی نوعیت اور اس کے پس منظر کو واضح کیا جائے۔
او آئی سی نے بھی اپنے بیان میں زور دیا کہ عالمی برادری کو بین الاقوامی قوانین کی پاسداری اور فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے مؤثر کردار ادا کرنا چاہیے تاکہ خطے میں پائیدار امن کی راہ ہموار ہو سکے۔