میرپور ماتھیلو، ضلع گھوٹکی (کیو این این ورلڈ کی خصوصی رپورٹ) ایک بار پھر سندھ کی اس سرزمین پر صحافت کی آواز کو گولیوں سے دبانے کی مذموم کوشش! تحصیل میرپور ماتھیلو کے علاقے جروار کے قریب گاؤں خدا بخش لغاری میں مقامی صحافی مشتاق علی لغاری اور ان کے والد فقیر غازی لغاری کے گھر پر رات کے سناٹے میں شدید فائرنگ کا دلخراش واقعہ پیش آیا۔ گذشتہ رات تقریباً ساڑھے بارہ بجے، جب پورا خاندان سکون سے سو رہا تھا، مسلح افراد نے گھر پر اندھا دھند گولیاں برسائیں۔ اور گھر کا ماحول خوف کی لپیٹ میں آ گیا۔ خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، لیکن یہ حملہ ایک واضح وارننگ تھا: "سچ بولنے والو، خاموش ہو جاؤ!”

متاثرہ خاندان کا الزام ہے کہ حملے میں ابراہیم لغاری ولد برکت لغاری اور اس کے مسلح ساتھی ملوث تھے، جو فائرنگ کے فوراً بعد فرار ہو گئے۔ مشتاق علی لغاری جو علاقے کی بدعنوانیوں، سماجی ناانصافیوں اور مقامی مسائل پر بے باک رپورٹنگ کرتے ہیں، کا کہنا ہے کہ یہ حملہ ان کی صحافتی سرگرمیوں کا براہ راست نتیجہ ہے۔ "میں نے کبھی جھوٹ نہیں بولا، اور نہ ہی خاموش رہوں گا۔ لیکن پولیس کی یہ بے حسی دیکھ کر خون کھول رہا ہے!”

سب سے بڑی شرمناکی پولیس کی طرف سے سامنے آئی ہے،واقعے کو 24 گھنٹے سے زیادہ گزر چکے ہیں، لیکن تھانہ جروار نے اب تک نہ تو ایف آئی آر درج کی ہے اور نہ ہی نامزد ملزمان کو گرفتار کرنے کی کوئی کوشش کی ہے۔ شہریوں اور صحافتی حلقوں کا کھلا الزام ہے کہ پولیس محض 8 ہزار روپے میں ‘بک’ گئی ہے! ایس ایس پی گھوٹکی، ڈی ایس پی میرپور ماتھیلو اور متعلقہ ایس ایچ اوز کچہ آپریشن میں مصروف ہیں” جو اہم ہے ” لیکن کیا شہریوں کی جان و مال کی حفاظت کوئی معنی نہیں رکھتی؟

ایس ایچ او اعجاز احمد جسکانی کچہ رونتی آپریشن میں ہیں، اور ان کی غیر موجودگی میں تھانہ ہیڈ محرر غلام علی گبول کے سپرد ہے، جو خود کو "ہاؤس آفیسر” سمجھ کر بیٹھے ہیں۔ نتیجہ؟ تھانہ جروار اب دلالوں، بدمعاشوں اور بدکردار عناصر کی آماجگاہ بن چکا ہے! علاقے میں دہشت کا دور دورہ ہے، لوگ شام ہوتے ہی گھروں بند ہوجاتے ہیں،ہرطرف خوف کا عالم ہے۔ ہیڈ محرر کسی شریف شہری کی بات سننے کو تیار نہیں، تحفظ دینے کی بجائے مزید خوفزدہ کر رہے ہیں۔

متاثرہ خاندان نے سخت الفاظ میں اعلان کیا ہے کہ”اگر آئندہ ہمارے گھر، خاندان یا کسی فرد کو کوئی جانی یا مالی نقصان پہنچا، تو اس کی مکمل ذمہ داری تھانہ جروار پولیس، ڈی ایس پی میرپور ماتھیلو اور ایس ایس پی گھوٹکی پر عائد ہوگی!”

صحافتی تنظیموں اور اہل علاقہ نے مطالبہ کیا ہے کہ نامزد ملزمان کی گرفتاری،ایف آئی آر درج کر کے مقدمہ چلایا جائے،صحافیوں کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات کئے جائیں ،یاد رہے کہ گذشتہ سال میرپور ماتھیلو میں مقامی صحافی طفیل احمد رند کو بچوں کے سامنے بے دردی سے قتل کردیا گیا تھا،اس کے علاوہ سندھ میں مزید کئی صحافی شہید ہوئے اور متعدد پر حملے کئے گئے

حالیہ واقعہ سندھ میں صحافیوں پر بڑھتے حملوں کی ایک اور کڑی ہے، جہاں آزادی اظہار رائے کو گولیوں سے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اعلیٰ حکام ، چیف منسٹر سندھ، آئی جی سندھ اور اعلی حکام کو فوری نوٹس لینا چاہیے۔ اگر پولیس 8 ہزار میں بک سکتی ہے تو شہریوں کا تحفظ کون کرے گا؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے