یومِ یکجہتی کشمیر، تجدیدِ عہد یا تفریح؟
تحریر: ڈاکٹر عبدالوحید رند
گزشتہ روز سوشل میڈیا پر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز صاحبہ سے منسوب ایک ٹویٹ نظر سے گزرا تو دل بوجھل بھی ہوا اور حیرت کے جھٹکے بھی لگے۔ پنجاب جیسے بڑے صوبے کی سربراہ، جنہیں ایک متحرک اور فعال ایڈمنسٹریٹر کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، ان کی جانب سے 5 فروری یعنی یومِ یکجہتی کشمیر کو محض “لانگ ویک اینڈ”، “بسنت کی موج مستی” اور “ریلیکس اینڈ ریچارج” ہونے کے موقع کے طور پر پیش کرنا، ایک فکری تضاد اور قومی حساسیت سے لاعلمی کی بدترین مثال محسوس ہوئی۔
5 فروری کوئی عام تعطیل یا تفریحی دن نہیں ہے۔ یہ وہ تاریخی دن ہے جب پوری پاکستانی قوم یک زبان ہو کر اپنے مظلوم کشمیری بھائیوں سے اظہارِ یکجہتی کرتی ہے۔ یہ دن ان لاکھوں کشمیریوں کی قربانیوں کی یاد دلاتا ہے جو گزشتہ سات دہائیوں سے بھارتی ظلم و جبر کی چکی میں پس رہے ہیں۔ جہاں کشمیری مائیں اپنے بیٹوں کے جنازے اٹھا رہی ہیں، جہاں نوجوان پیلٹ گنوں کے ذریعے بینائی سے محروم ہو رہے ہیں، جہاں انسانی حقوق کی پامالی روز کا معمول بن چکی ہے، وہاں ایسے دن کو “تفریح کا موقع” قرار دینا کسی بھی طور پر مناسب قرار نہیں دیا جا سکتا۔
یہ دن دراصل اس عہد کی تجدید کا دن ہے کہ پاکستان اپنے کشمیری بھائیوں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑے گا۔ مگر افسوس کہ پنجاب کی سربراہ کی جانب سے اس دن کو صرف آرام اور سیر و تفریح سے جوڑ دینا ان کشمیریوں کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہے جو آج بھی پاکستان کی طرف امید بھری نظروں سے دیکھتے ہیں۔
یہ رویہ انتظامیہ اور عوامی جذبات کے درمیان واضح ٹکراؤ کی علامت ہے۔ ایک طرف حکومت کشمیر کے نام پر سیمینارز، واکس اور ریلیاں منعقد کرتی ہے، سرکاری سطح پر کشمیریوں کے حق میں قراردادیں منظور کی جاتی ہیں، اور دوسری طرف قیادت کی سطح پر اسی دن کی اہمیت کو غیر سنجیدگی سے لیا جانا ایک عجیب تضاد کو جنم دیتا ہے۔ کیا یہ طرزِ عمل اس بات کا عکاس نہیں کہ ہماری اشرافیہ کے نزدیک قومی کاز محض رسمی تقریبات اور چھٹی تک محدود ہو چکا ہے؟
وزیراعلیٰ پنجاب کا یہ بیان محض ایک سوشل میڈیا پوسٹ نہیں بلکہ ایک ایسی ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے جو قومی ذمہ داریوں پر ذاتی سہولت اور ثقافتی میلوں کو ترجیح دیتی ہے۔ مسئلہ کسی شخصیت کا نہیں، مسئلہ سوچ اور رویے کا ہے۔ اگر حکومتی سطح پر ہی یومِ یکجہتی کشمیر کو سنجیدگی کے بجائے تفریح کے تناظر میں پیش کیا جائے گا تو عام عوام اور نئی نسل کو کیا پیغام جائے گا؟
یہ لمحہ فکریہ ہے کہ ہم اپنی آئندہ نسلوں کو کیا سکھا رہے ہیں۔ کیا ہم انہیں یہ باور کروانا چاہتے ہیں کہ کشمیر کی جدوجہد، کشمیریوں کی قربانیاں اور ان کے آنسو محض ایک اضافی چھٹی کا بہانہ ہیں؟ کیا قومی دنوں کا تقدس اب صرف کیلنڈر کی سرخ تاریخوں تک محدود رہ گیا ہے؟
سیاست، تفریح اور ثقافتی سرگرمیاں اپنی جگہ اہم ہو سکتی ہیں، مگر کچھ قومی دن ایسے ہوتے ہیں جن کا احترام ہر قسم کی سیاسی مصلحت سے بالاتر ہوتا ہے۔ یومِ یکجہتی کشمیر بھی انہی دنوں میں سے ایک ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ کشمیر صرف ایک خطہ نہیں بلکہ ہمارے ایمان، ہماری غیرت اور ہماری قومی شناخت کا حصہ ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومتی سطح پر ایسے بیانات سے گریز کیا جائے جو قومی جذبات کو مجروح کریں۔ کشمیری عوام کی جدوجہد آزادی محض ایک سیاسی نعرہ نہیں بلکہ پاکستان کے نظریاتی وجود کا حصہ ہے۔ اس کے ساتھ جڑا ہر دن احترام، سنجیدگی اور یکجہتی کا متقاضی ہے، نہ کہ محض “ریلیکسیشن” کا۔
